Al-Risala · May 2003 · page

Symbiosis between Science & Spirit

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

اسی آخری بات کو حدیث میں غلو کہا گیا ہے اور غلو خود ایک ہلاکت خیز عمل ہے۔ ایک شخص کو علم دین حاصل ہو اور علم دین کی روشنی میں اُس نے یہ جانا ہو کہ توحید اسلام میں بنیادی عقیدہ کی حیثیت رکھتی ہے تو ایسے شخص کو حق ہے کہ وہ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت لوگوں کو توحید کی طرف بلائے۔ لیکن اس اصلاحی دعوت کے ساتھ اگر وہ یہ حکم لگانے لگے کہ فلاں لوگ چونکہ اُس کے نزدیک مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہیں اس لیے اُن کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ اُن کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی تو ایسا شخص خود اسلام کی نظر میں غلط کا قرار پائے گا۔ کیوں کہ وہ غلو کر رہا ہے اور غلو کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصلاح کا کام ایک بے حد نازک کام ہے۔ اُس کی ناگزیر شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مصلح ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانے۔ اُس کو یہ جاننا چاہئے کہ اُس کی ذمہ داری صرف پر امن دعوت ہے۔ یہ اُس کی سرے سے ذمہ داری ہی نہیں کہ وہ متعین طور پر لوگوں کے بارہ میں یہ حکم لگائے کہ فلاں شخص مشرک ہے۔ مصلح کو چاہئے کہ وہ مشرک ہونے کے معاملہ کو خدا کے حوالہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو صرف خیر خواہانہ نصیحت تک محدود رکھے۔ جن لوگوں کے اندر فرق کرنے کی یہ صلاحیت نہ ہو، اُن کا اصلاح کے میدان میں آنا بذات خود ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے سوالات کا نمبر وار جواب حسب ذیل ہے:

۱۔ کسی مصلح کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ شرک کے مسئلہ کو بتائے۔ کسی مصلح کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی متعین شخص کو مشرک قرار دے اور اُس کے اوپر شرک کے احکام نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ پہلا کام یقینی طور پر جائز ہے مگر دوسرا کام یقینی طور پر جائز نہیں۔ جولوگ ایسا کریں وہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔

۲۔ مشرک کسی قوم یا نسل کا نام نہیں۔ کسی بھی شخص سے شرک کا فعل سرزد ہو سکتا ہے۔ مگر تعین کے ساتھ کسی کو مشرک قرار دینے کا حق صرف خدا کو ہے، انسان کو نہیں۔

۳۔ کوئی مقتدی امام کی نماز نہیں پڑھتا۔ ہر مقتدی خود اپنی نماز پڑھتا ہے۔ امام کے سبب سے کسی مقتدی کی نماز نہ مقبول ہوتی ہے اور نہ غیر مقبول۔ قبولیت کا تعلق تمام تر ہر آدمی کی اپنی نیت سے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page