Al-Risala · June 2003 · page

جہاد کیا ہے

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

کرنے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی قربت ڈھونڈھنے کے لیے کوشش کرنا۔ ظاہر ہے کہ اس جہاد کا قتال یا ٹکراؤ سے کوئی تعلق نہیں۔

۲۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدوا بأموالهم (الحجرات (۱۵) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے مال سے جہاد کیا۔ اس آیت کے مطابق، اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا ایک جہادی عمل ہے۔

۳۔ اسی طرح قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدهم به جهاداً كبيراً (الفرقان ۵۲) یعنی غیر مومنین کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کرو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی تعلیمات کو پھیلانے کے لیے پرامن جدوجہد کرو۔

۴۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (الترمذی، فضائل الجہاد) یعنی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کی ترغیبات سے لڑ کر اپنے آپ کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنا جہاد ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ لڑائی داخلی طور پر نفسیات کے میدان میں ہوتی ہے، نہ کہ خارجی طور پر کسی جنگ کے میدان میں۔ ۵۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحج جهاد (ابن ماجہ، کتاب المناسک ) یعنی حج جہاد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کا عمل ایک مجاہدانہ عمل ہے۔ حج کو مطلوب انداز میں انجام دینے کے لیے آدمی کو سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ۶۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی خدمت کے بارے میں فرمایا: ففيهما فجاهد (البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم اپنے والدین میں جہاد کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا جہاد کا ایک عمل ہے۔

اس طرح کی مختلف آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا عمل اصلاً ایک پرامن عمل ہے۔ وہ کسی مطلوب خدائی کام میں پرامن دائرہ کے اندر جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے لفظ کا صحیح ترجمہ پرامن جدوجہد (peaceful struggle) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page