Al-Risala · June 2003 · page

جہاد کیا ہے

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

جیسا کہ معلوم ہے، اُس زمانہ میں دنیا میں شہنشاہیت کا نظام قائم تھا۔ یہ نظام ہزاروں سال سے چلا آ رہا تھا۔ اس سیاسی نظام نے انسانی آزادی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بادشاہ کی مرضی واحد فیصلہ کُن طاقت کی حیثیت رکھتی تھی۔

آزادی اور امن کے قیام کے لئے اس جبری نظام کا خاتمہ ضروری تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے محدود مدت کے لیے طاقت کا استعمال کیا تاکہ اس نظام کو ختم کر دیا جائے۔ یہ نظام اولاً عرب میں ختم کیا گیا۔ اُس کے بعد اُس زمانہ کے دو سب سے بڑے شہنشاہی نظام۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے اُن کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو کامیابی حاصل ہوئی اور دونوں ایمپائر ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔

فرانس کے مؤرخ ہنری پرین (Henry Pyrenne) نے اس قدیم نظام کو مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔ اُس نے لکھا ہے کہ اہل اسلام اگر اس مطلق شہنشاہیت کو نہ توڑتے تو دنیا میں کبھی آزادی اور امن کا دور نہ آتا۔

جہاد کیا ہے

جہاد کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان جہاد کے نام پر جو کچھ کر رہے ہیں، وہ جہاد نہیں ہے۔ یہ سب قومی جذبات کے تحت چھیڑی ہوئی لڑائیاں ہیں جن کو غلط طور پر جہاد کا نام دے دیا گیا ہے۔

جہاد اصلاً پر امن جدوجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنی نہیں۔ کبھی تو وسیعی استعمال کے طور پر جہاد کو قتال کے مفہوم میں بولا جاتا ہے۔ مگر لغوی مفہوم کے اعتبار سے جہاد اور قتال دونوں ہم معنی الفاظ نہیں۔ یہاں اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جہاد کے بعض استعمالات درج کئے جاتے ہیں: ۱۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (العنكبوت ۶۹) یعنی جن لوگوں نے جہاد کیا ہماری خاطر تو ہم اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔ اس آیت میں تلاش حق کو جہاد کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ کو پانے کے لیے کوشش کرنا، اللہ کی معرفت حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page