A religion that sanctions violence
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
نتیجہ تھا کہ آپ ایک ایسا انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے جس میں اتنی کم جانیں ہلاک ہوئیں کہ اُس کو بلاشبہ ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔
پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کی یہ پالیسی موجودہ دنیا میں امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا سب سے بڑا سبب اسٹیٹس کو (statusquo) کو توڑنے کی کوشش ہے، اور امن کے قیام کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کو مان کر بقیہ دائرہ میں اپنی تعمیر کی جائے۔ اسلام میں جہاد کا تصور جہاد ایک عربی لفظ ہے۔ اس کے معنی سادہ طور پر کوشش کرنے کے ہیں۔ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے وہ پرامن جدوجہد کے ہم معنی ہے۔ توسیعی مفہوم کے اعتبار سے جہاد کو جنگ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر عربی میں جنگ کے لیے اصل لفظ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔ موجودہ زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر جنگ اور تشدد کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ میڈیا کے کثرت استعمال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ مثلاً لندن کے انگریزی روزنامہ ٹائمس (The Times) میں ایک آرٹیکل چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے۔ ایک مذہب جو تشدد کی اجازت دیتا ہے۔
A religion that sanctions violence
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں پیغمبر اسلام کو رحمت للعالمین کی حیثیت سے متعارف کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو دین لائے وہ دنیا کے لیے دین رحمت تھا۔ ایسے دین کی تصویر متشددانہ مذہب کی کیسے بن گئی۔ جواب یہ ہے کہ دو قسم کی غلط فہمیاں اس خلاف واقعہ تصویر کی ذمہ دار ہیں۔ ایک، نظریہ اور عمل میں فرق نہ کرنا۔ دوسرے، استثناء کو عموم کا درجہ دینا۔ ١۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نظریہ کی روشنی میں عمل کو جانچا جاتا ہے، نہ کہ عمل کی روشنی میں نظریہ کو جانچا جانے لگے۔ مثلاً اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اس کی ممبر قوموں کے رویہ کو جانچا جائے گا، نہ یہ کہ ممبر قوموں کی عملی روش کی روشنی میں چارٹر کا مفہوم متعین کیا جائے۔ اسی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues