A religion that sanctions violence
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
اس مسئلہ کے علمی مطالعہ کے لئے ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جائے۔
مثلاً مسلمانوں کی ایک تعداد ان قبروں کو پوجتی ہے جس میں کسی بزرگ کو کبھی دفن کیا گیا تھا۔ اس کو دیکھ کر بت پرست لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب شرک اور اسلام کے مذہب توحید میں کوئی فرق نہیں۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ ہندودھرم میں کھڑا کر کے پوجا جاتا ہے اور اسلام دھرم میں لٹا کر پوجا جاتا ہے۔ مگر یہ تقابل درست نہیں۔ کیوں کہ جو مسلمان قبروں کو پوجتے ہیں وہ ان کا ایک انحرافی فعل ہے۔ اس کا اسلام کی اصل تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔
یہی معاملہ جہاد کا ہے۔ جہاد بلاشبہ ایک پر امن عمل ہے۔ لیکن اگر محمود غزنوی اور اورنگ زیب کی متشددانہ کارروائیوں کو اسلامی جہاد بتایا جائے یا موجودہ زمانہ میں جو مسلمان مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں ان کو جہاد کہا جائے تو یہ رائے قائم کرنے کا صحیح طریقہ نہ ہوگا۔ صحیح علمی طریقہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کی ثابت شدہ تعلیمات کو اسلامی نظریہ کا ماخذ بنایا جائے اور مسلمانوں کی کارروائیوں کو اس کی روشنی میں جانچا جائے۔ مسلمانوں کا جو عمل اسلام کے نظریہ جہاد پر پورا نہ اترے اُس کو رد کر دیا جائے۔
۲۔ غلط فہمی کا دوسرا سبب استثنائی تعلیم کو عمومی تعلیم کا درجہ دینا ہے۔ قرآن میں تقریباً چھ ہزار آیتیں ہیں۔ ان میں سے بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جو جہاد بمعنی قتال سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی ایک فیصد سے بھی کم آیتیں، زیادہ متعین طور پر اعشاریہ ۵ فیصد (0.5 percent)۔ اصل یہ ہے کہ قرآن ۲۳ سال کی مدت میں وقفہ وقفہ سے اترا۔ جیسے حالات پیدا ہوتے تھے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے احکام نازل کر دئے جاتے تھے۔ اس ۲۳ سال کو دو مختلف مدتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک ۲۰ سال کی مدت اور دوسرے تین سال کی مدت۔ ۲۰ سال کی مدت میں قرآن میں وہ احکام اترے جو ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، عدل، اصلاح سے تعلق رکھتے تھے اور تین سال کی مدت میں جنگ کے احکام اترے جب کہ پیغمبرِ اسلام کے مخالفوں نے یکطرفہ طور پر حملہ کر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues