Al-Risala · June 2003 · page

A religion that sanctions violence

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

کے اہل اسلام کے لیے دفاع کا مسئلہ پیدا کر دیا تھا۔ گویا قرآن میں جہاد بمعنی قتال کی حیثیت استثناء کی ہے اور دوسری آیتوں کی حیثیت عموم کی۔

استثناء اور عموم کا یہ فرق ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر گیتا ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب ہے۔ اس میں حکمت کی بہت سی باتیں ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ گیتا میں کرشن جی ارجن سے کہتے ہیں کہ ہے ارجن، لڑائی کے لیے تیار ہو اور جنگ کر۔

O Arjun, be ready and fight. (Chapter 3, 11)

پوری گیتا کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جنگ کی بات اس میں استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر صرف اسی استثنائی حصہ کو لیا جائے اور اس کو جنرلائز کر کے اسی سے گیتا کی مجموعی تعلیم نکالی جائے تو یہ ایک غیر علمی طریقہ ہوگا اور گیتا کو صحیح طور پر سمجھنے میں رکاوٹ بن جائے گا۔ اسی طرح بائبل میں آیا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ :

Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword. (Matthew 10/34)

حضرت مسیح کے پورے کلام کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا یہ قول استثنائی قول ہے۔ یہی ان کی عمومی تعلیم نہیں۔ ایسی حالت میں حضرت مسیح کے پیغام کو متعین کرنے کے لیے ان کے عمومی اقوال کو دیکھا جائے گا۔ بعض استثنائی اقوال کو لے کر مسیح کی عمومی تصویر بنانا درست نہیں ہو سکتا۔ یہی کسی کتاب کے مطالعہ کا علمی طریقہ ہے۔ یہی طریقہ گیتا اور بائبل کے مطالعہ کے لیے بھی درست ہے اور یہی طریقہ قرآن کے مطالعہ کے لیے بھی درست۔

اب قرآن اور حدیث کے حوالوں کی روشنی میں جہاد کا مفہوم متعین کیجئے۔ قرآن کی ایک آیت یہ ہے: والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا، (العنكبوت (٦٩) یعنی جو لوگ اللہ میں جہاد کریں گے اللہ انہیں اپنے راستے دکھائے گا۔ اس آیت میں جہاد سے مراد وہ کوشش ہے جو سچائی کی تلاش میں یا اللہ کی معرفت حاصل کرنے میں کی جائے۔ اس آیت میں ایک ایسے عمل کو جہاد کہا گیا ہے جو مکمل طور پر ایک فکری جستجو (intellectual pursuit) کی حیثیت رکھتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page