Al-Risala · June 2003 · page

عسکری دور سے غیر عسکری دور تک

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

رہا۔ یہاں تک کہ وہ بیسویں صدی کے وسط میں اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ قدیم طرز کا جبری نظام دوبارہ زمین پر قائم ہو۔

بعد کے زمانہ میں دوبارہ کسی اور ایمپائر کا دنیا میں قائم نہ ہونا کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پچھلی چند صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں دنیا میں ایسی ہمہ گیر تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جو کسی نئے ایمپائر کے قیام کی راہ میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ ہیں۔ اب وہ اسباب دنیا میں موجود ہی نہیں جب کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند دوبارہ قدیم طرز کا ایمپائر کھڑا کر سکے۔

موجودہ زمانہ میں سیاسی ایمپائر کے قیام کے خلاف جو موانع (deterrents) پیدا ہوئے ہیں اُن کو چند مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

۱۔ قدیم زمانہ میں یہ صورت حال تھی کہ جب کوئی بادشاہ فوجی طاقت کے زور پر ایک علاقہ پر قبضہ کر لیتا تھا تو وہاں کے لوگ اٗس کو بادشاہ کا فطری حق سمجھ کر اٗس کی سیاسی بالا دستی کو قبول کر لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں ایک بادشاہ کو صرف دوسرا بادشاہ ختم کر سکتا تھا، نہ کہ عوام۔ مگر موجودہ زمانہ میں جمہوریت اور سیاسی آزادی اور قومی حکومت کے تصورات کے نتیجہ میں رائے عامہ اتنی زیادہ بدل چکی ہے کہ اب کسی بیرونی بادشاہ کو وہ اجتماعی قبولیت (social acceptance) حاصل نہیں ہوتی جو کسی حکومت کے قیام و بقا کے لیے ضروری ہے۔

۲۔ قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر مبنی ہوتا تھا اور زمین صرف بادشاہ کی ملکیت سمجھی جاتی تھی۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے اقتصادی ذرائع پیدا کر دیے ہیں۔ یہ نئے ذرائع ہر انسان کے لیے قابل حصول ہیں۔ اس لیے اب عام لوگوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ سیاسی حکمراں کے خلاف ایسے آزاد اقتصادی وسائل پالیں جو سیاسی حکمراں کے دائرۂ اقتدار کے باہر ہوں۔ اس اقتصادی تبدیلی نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ آج ایسی انقلابی تحریک چلائی جا سکے جس کو روکنا سیاسی حکمراں کے لیے ممکن نہ ہو۔

۳۔ اسی طرح ایک چیز وہ ہے جس کو مانع میڈیا (media deterrent) کہا جا سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page