عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
ہے ۔ موجودہ زمانہ میں میڈیا اور کمیونیکیشن کی ترقی نے یہ صورت حال پیدا کر دی ہے کہ ایک علاقہ میں پیش آنے والا واقعہ فورا ہی ساری دنیا میں پہنچ جائے ۔ تمام دنیا کے لوگ اُس سے پوری طرح با خبر ہو جائیں ۔ یہ ایک ایسا چیک (check) ہے جس نے قدیم طرز کے سیاسی ایمپائر کے قیام کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ اب کوئی بادشاہ اپنے اختیارات کا اِس طرح بے خوف استعمال نہیں کر سکتا جو پہلے ممکن ہوا کرتا تھا۔
۴۔ اِسی طرح ایک اور چیز وہ ہے جس کو عالمی مانع (universal deterrent) کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کے تحفظ کے نام پر قائم ہونے والے ادارے، ایسے مستقل چیک ہیں جن کو کوئی سیاسی حکمراں نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ دیر تک اُن کی خلاف ورزی کا تحمل کر سکتا ہے۔
اِن عالمی تبدیلیوں کے بعد انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ قدیم دور اگر عسکری دور تھا تو اب نیا دور غیر عسکری دور ہے۔ قدیم زمانہ میں پرتشدد طریقہ کو کسی بڑی کامیابی کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب پر اَمْن طریقہ (peaceful method) کو مطلق طور پر کامیاب طریقہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اب کسی مقصد کے حصول کی جدوجہد کو اول سے آخر تک اِس طرح چلایا جا سکتا ہے کہ اُس کے کسی بھی مرحلہ میں تشدد کے استعمال کی ضرورت پیش نہ آئے۔ وہ مکمل طور پر پُر امن ذرائع کی پابند رہتے ہوئے کامیابی کی آخری منزل تک پہنچ جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب پرتشدد طریق کار ایک خلاف زمانہ عمل (anachronism) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اب وہ وقت کے مطابق، کوئی عمل نہیں۔
جہاد بمعنی قتال کو تمام علماء حسن لغیرہ مانتے ہیں، نہ کہ حسن لذاتہ ۔ اب موجودہ حالات میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب جہاد بمعنی قتال کا وقت نہیں رہا ، اب جہاد بمعنی پرامن جدوجہد کا وقت دنیا میں واپس آگیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاد بمعنی قتال اب منسوخ ہو گیا۔ وہ حکماً بدستور باقی ہے۔ یہ نیا معاملہ جو پیش آیا ہے اِس کا تعلق خود حکم کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ احوال کی تبدیلی سے ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues