عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
آتا ہے کہ سیاسی معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ پر تشدد عمل سے روکا اور پر امن عمل کی نصیحت کی۔ اس لیے کہ پر تشدد عمل کی روایت اگر ایک بار قائم ہو جائے تو اس کے بعد اُس کوختم کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں آپ نے حکمراں کے خلاف خروج سے آخری حد تک منع فرمایا ہے۔ اس بنا پر علماء نے اس پر اتفاق کر لیا ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف کسی بھی عذر کی بنا پر بغاوت کرنا حرام ہے۔ (الغلو فی الدین صفحہ ۲۱۷) ایک طرف حاکم کے خلاف متشددانہ سیاست کی یہ مطلق ممانعت ہے۔ دوسری طرف روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل الجہاد من قال کلمة حق عند سلطان جائر (الترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، احمد، النسائی) یعنی افضل جہاد یہ ہے کہ کوئی شخص ظالم بادشاہ کے سامنے حق کی بات کہے۔
ان دونوں قسم کی روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی حکمراں شخص ظالم دکھائی دے تب بھی اس کے لئے زیادہ سے زیادہ جس حد تک جانے کی اجازت ہے وہ صرف قولی معنی میں اظہار رائے ہے، نہ کہ عملی معنی میں مخالفانہ سیاست چلانا یا حکمراں کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اسلام میں صرف پر امن جدوجہد (peaceful struggle) ہے۔ پرتشدد جدوجہد (violent struggle) کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر اسلام میں جائز نہیں۔ اسلام کی بعد کی تاریخ کا غالباً سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذکورہ واضح ہدایات کے باوجود بعد کی مسلم نسلوں میں جہاد کے نام پر متشددانہ سیاست کی روایت چل پڑی۔ حتیٰ کہ یہ ذہن مسلمانوں پر اتنا زیادہ چھایا کہ دین رحمت (الانبیاء ۱۰۷) ان کے یہاں دین جہاد بمعنی قتال بن گیا۔ بعد کی صدیوں میں تیار ہونے والا بیشتر لٹریچر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ بعد کے زمانہ میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئیں اُن میں اس ذہن کی عکاسی اس طرح ہوئی کہ صبر و اعراض کی آیتوں کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ قتال کا حکم اُترنے کے بعد یہ آیتیں منسوخ ہو گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues