Al-Risala · June 2003 · page

عسکری دور سے غیر عسکری دور تک

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

اس کی توجیہہ اس فقہی مسلمہ میں پائی جاتی ہے کہ:۔ تتغیر الأحكام بتغير الزمان والمكان ۔ (زمان ومکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) یہ امر واضح ہے کہ تبدیلی اور منسوخی میں نوعی فرق پایا جاتا ہے۔

یہ تبدیلی جو موجودہ زمانہ میں پیش آئی ہے وہ عین اسلام کے حق میں ہے اور وہ اسلام ہی کے پیدا کردہ انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کے مواقع آخری حد تک کھول دیے جائیں۔ اب اہل اسلام گویا آخری طور پر اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس کی آمد کی دعا رسول اور اصحاب رسول نے ان الفاظ میں کی تھی: ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا (البقرہ) اب اسلام کے دعوتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی ٹکراؤ کی ضرورت نہیں۔ اب پُر امن طریق کار پر عمل کرتے ہوئے وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔

ایک حدیث

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خطبہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنے زمانہ سے لے کر قیامت تک پیش آنے والی ساری باتیں آپ نے ہم کو بتائیں۔ اس خطبہ میں آپ نے اپنی امت کو نہایت شدت کے ساتھ سیاسی بغاوت سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی حکمراں خواہ تمہارے نزدیک ظالم ہو، وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی تم اس کی اطاعت کرو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: وانما اخاف على امتى الائمة المضلين، وإذا وضع السيف في امتى لم يُرفع عنها الى يوم القيامة، (سنن ابی داؤد، كتاب الفتن والملاحم، ۹۵/ ۴) یعنی میں اپنی امت پر سب سے زیادہ گمراہ کرنے والے لیڈروں سے خائف ہوں، اور جب میری امت میں تلوار داخل ہو جائے گی تو وہ اس سے قیامت تک اٹھائی نہ جائے گی۔ اس قسم کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں اس حدیث پر غور کیا جائے تو اس کا مطلب یہ سمجھ میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page