عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
جہادی (بمعنٰی قتالی) طرز فکر میں یہ ہوتا ہے کہ مسلمان دوسروں کو اپنا حریف اور رقیب سمجھنے لگتے ہیں۔ مغربی قوموں کے استیلاء کے بعد یہ فرق بہت بڑھ گیا۔ مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ مغربی قوموں نے اُن سے اُن کا برتری کا مقام چھین لیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ رقابت مزید اضافہ کے ساتھ نفرت بن گئی۔ مسلمان عام طور پر دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اسلام اکیسویں صدی میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ دورِ اول میں جو انقلاب آیا اُس کا ایک پہلو وہ ہے جس کی تکمیل دورِ اول ہی میں ہوگئی۔ یعنی نزولِ قرآن کی تکمیل اور اسلامی طرزِ زندگی کا نظری اور عملی نمونہ دنیا میں قائم ہو جانا۔ یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت اور احوالِ صحابہ کی صورت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا ہے۔ وہ ابدی طور پر انسان کے لیے ربانی طرزِ زندگی کا مستند نمونہ ہے۔ دورِ اول کے اسلامی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تدرّج کا طالب تھا۔ چنانچہ وہ لمبی مدت کے بعد اپنی تکمیل کو پہنچا۔ یہ دوسرا پہلو ایک مسلسل عمل (process) کے طور پر انسانی تاریخ میں داخل ہوا۔ یہ تاریخ میں ایک بے حد دور رس تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اُس کے لیے ہزار سالہ تغیراتی عمل درکار تھا۔ چنانچہ یہ عمل مکہ اور مدینہ سے جاری ہو کر دمشق اور بغداد تک پہنچا۔ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھا۔ وہ اولاً یورپ (اندلس) میں داخل ہوا اور اُس کے بعد وہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ مستقبل میں آنے والے اس انقلاب کا ذکر قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں چند آیتوں کے حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔
۱۔ اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ (الانفال ۳۹)
۲۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ (المائدہ ۳)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues