عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
۳۔ عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ (حم السجدہ ۵۳)
۴۔ اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ (البقرہ ۲۸۶) اسلامی انقلاب کے اس دوسرے پہلو کا خلاصہ یہ تھا کہ تاریخ میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ اُس کے بعد اسلام پر عمل کرنا زمانۂ ماضی کے مقابلہ میں آسان ہو جائے۔ پچھلے دور کے اہل ایمان کو جو کام ’’عُسر‘‘ کے حالات میں کرنا پڑتا تھا وہ اگلے دور کے اہل ایمان کے لئے ’’يُسر‘‘ کے حالات میں انجام دینا ممکن ہو جائے۔ (الانشراح) تيسير کے اس عمل کے مختلف پہلو ہیں۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں بادشاہت کے تحت سیاسی جبر کا نظام قائم تھا۔ اس نظام کے تحت انسان کو سوچنے یا عمل کرنے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ جب کہ آزادی کے بغیر نہ دینی احکام پر عمل کیا جا سکتا اور نہ دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ اسلامی انقلاب نے نہ صرف ابتدائی طور پر جبر کے اس نظام کو توڑا بلکہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کیا۔ اس عمل کی تکمیل موجودہ زمانہ میں اس طرح ہوئی ہے کہ آج اہل ایمان کو دینی عمل اور دینی دعوت دونوں کی مکمل آزادی حاصل ہے، الا یہ کہ وہ خود اپنی کسی نادانی سے حالات کو مصنوعی طور پر اپنے مخالف بنالیں۔ اس انقلاب کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقی کے ذریعہ کمیونیکیشن کے جدید ذرائع حاصل ہوگئے ۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ حق کی دعوت کو تیزی کے ساتھ دنیا کے ہر حصہ میں پہنچایا جاسکے۔
اسی طرح موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں نے اس کو ممکن بنا دیا کہ کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی نشانیاں ظاہر ہوں اور خدا کے دین کو خود علم انسانی کی روشنی میں مدلّل اور مبرہن کر سکے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ عمل اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا تھا۔ اب اہل ایمان کے لیے یہ ممکن ہو گیا تھا کہ وہ امن اور آزادی کی فضا میں بخوبی طور پر اللہ کے دین پر عمل کریں اور اللہ کے دین کو دوسری اقوام تک پہنچانے کا دعوتی فریضہ کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دیں۔ مگر عین اسی صدی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues