Politics is the art of the possible.
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
صدام حسین کے لیے انتخاب (Option for Saddam Hussein)
عراق کے صدر صدام حسین کے سامنے محفوظ طور پر صرف ایک ہی چوائس ہے۔ وہ یہ کہ وہ عراق کو چھوڑ کر خاموشی کے ساتھ باہر چلے جائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام پرسکون جلاوطنی میں گزاریں۔ جیسا کہ ان سے پہلے بہت سے حکمران کر چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کئی عرب ملک اُن کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
صدام حسین کے لیے یہی واحد چوائس ہے۔ دوسرا چوائس جو اس وقت وہ لیے ہوئے ہیں وہ عملی طور پر کوئی چوائس نہیں۔ یعنی اپنی پولیٹیکل گدی پر بدستور جمے رہنا۔ اس دوسری چوائس میں یقینی طور پر آخر کار ان کی اپنی تباہی بھی ہے اور عراق کی تباہی بھی۔
صدام حسین اگر اسلامی اصول کی بنیاد پر فیصلہ کریں تو میں اُن کو یاد دلاؤں گا کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ عائشہ زوج رسول کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو وہ ہمیشہ آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے اور مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے (البخاری)
موجودہ حالات میں یہ بالکل واضح ہے کہ صدام حسین کے لیے ترک وطن کا چوائس ہی واحد آسان انتخاب (easier choice) ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنی موجودہ حالت پر اصرار کریں تو یہ امریکہ کو عراق پر بمباری کی دعوت دینے کے ہم معنی ہوگا۔ دوسری صورت اُن کے لیے مشکل انتخاب ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ صدام حسین اگر اس شرعی اصول کو نہ مانیں تب بھی میں کہوں گا کہ اُن کے حق میں عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے۔ دنیا کے تمام دانشمند سیاست داں کا کہنا ہے کہ سیاست ممکن کا آرٹ ہے:
Politics is the art of the possible.
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues