عسکری دور سے غیر عسکری دور تک
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
میں مسلمانوں کے نااہل رہنماؤں نے غلط رہنمائی کر کے انہیں ایسی سرگرمیوں میں الجھا دیا جس کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا تھا کہ اہل ایمان جدید مواقع کو استعمال نہ کر سکیں، حتیٰ کہ وہ اُن کے شعور سے بھی بے بہرہ ہو جائیں۔ یہ غلطیاں بنیادی طور پر دو قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔
ایک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔ اس تعبیر نے غلط طور پر مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا کہ وہ اسلام کے کامل پیرو صرف اُس وقت بن سکتے ہیں جب کہ وہ اسلام کے تمام قوانین کو عملاً نافذ کر دیں۔ اس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم عوام اپنے حکمرانوں سے لڑ گئے، تاکہ اُن کو ہٹا کر وہ شریعت کا قانون نافذ کر سکیں۔ اس سیاسی بدعت کے نتیجہ میں کوئی خیر تو سامنے نہیں آیا البتہ مسلم دنیا میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں وہ جبر اور ظلم دوبارہ قائم ہو گیا جس کو لمبے تاریخی عمل کے نتیجہ میں ختم کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بندوں سے اسلام کی کامل پیروی مطلوب ہے، نہ کہ اسلام کا کامل نفاذ۔
دوسری غلطی وہ ہے جو جہاد کے نام پر موجودہ زمانہ میں شروع کی گئی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ سیاسی اور مادی شکایتیں تھیں۔ ان شکایتوں کو پرامن طریق کار کے ذریعہ حل کیا جا سکتا تھا مگر پرجوش رہنماؤں نے فوراً جہاد کے نام پر ہتھیار اٹھا لیے اور دوسری قوموں کے خلاف مسلح لڑائی شروع کردی۔ اس خود ساختہ جہاد کے نتیجہ میں نہ صرف جدید امکانات ضائع ہو گئے بلکہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اتنی بڑی تباہی سے دوچار ہوئے، جیسی تباہی ماضی کی طویل تاریخ میں اُن کے ساتھ کبھی پیش نہیں آئی تھی۔
مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمان بیسویں صدی کو کھو چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی ان غلطیوں کی اصلاح کریں گے یا موجودہ صدی کو بھی وہ اُسی طرح کھو دیں گے جس طرح وہ پچھلی صدی کو کھو چکے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues