Al-Risala · June 2003 · page

Politics is the art of the possible.

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۹ نومبر ۲۰۰۲ کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ صبر کا مطلب آپ برداشت بتاتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ صبر کا مطلب حوصلہ ہے۔ میں نے کہا کہ صبر کا ابتدائی لغوی مفہوم برداشت (patience) ہی ہے۔ جہاں تک حوصلہ (courage) کا تعلق ہے وہ بلاشبہ زندگی کی ایک اہم قدر ہے۔ زندگی میں برداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور حوصلہ کی بھی۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کس کو کس کے تابع کیا جائے۔ حوصلہ کو برداشت کے تابع کیا جائے یا برداشت کو حوصلہ کے تابع۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے۔ میرے علم کے مطابق ، تاریخ کی بیشتر تباہیاں ، خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، اس لئے ہوئی ہیں کہ لوگوں نے حوصلہ کو اوپر کر دیا اور برداشت کو نیچے ۔ اور اپنے حوصلہ مندانہ جذبات کے تحت ایک ایسا اقدام کر ڈالا جو ان کی حقیقی استطاعت (manageable limit) سے باہر تھا۔ چنانچہ ان کا نتیجہ ایسے شخص کا سا ہوا جو کسی ندی کے دھانہ کے نصف کے بقدر چھلانگ لگانے کی طاقت رکھتا ہو مگر وہ پورے دہانے کے اوپر چھلانگ لگا دے۔

کوئی صورت حال پیش آنے پر آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ حوصلہ مندانہ چھلانگ سے اپنے آپ کو روکے اور برداشت کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے صورت موجودہ پر قائم رہے تو وہ خواہ بروقت کوئی بڑا فائدہ حاصل نہ کر سکے مگر وہ مزید نقصان سے یقیناً بچ جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ حوصلہ جذبات کا نتیجہ ہوتا ہے اور برداشت سوچ کا نتیجہ۔ جذبات کے تحت کیا ہوا اقدام اکثر آخر کار آدمی کے لیے ایک پرشیج اشو (prestige issue) بن جاتا ہے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنا قدم واپس لینے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کو حوصلہ جس

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page