Politics is the art of the possible.
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
سوال
میری خواہش ہے کہ مذکورہ ذیل چند عناوین پر آپ کے خیالات معلوم کروں :
۱۔ ختم نبوت کی حقیقت۔ ۲۔ مسئلہ حیات و ممات حضرت عیسیٰ السلام۔ ۳۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام، یعنی ان کا کام کیا ہوگا۔ آپ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہوگا۔ ۴۔ مسئلہ اجزائے وحی کی حقیقت۔ یعنی وحی کی کتنی اقسام ہیں۔ کیا وحی کا تعلق صرف انبیاء سے ہوتا ہے۔ کیا اب ہر قسم کی وحی بند ہے۔ (محمد وسیم خاں، قادیان)
جواب
۱۔ ختم نبوت کے بارہ میں میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ میرے نزدیک پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت آخری طور پر ختم ہو گیا۔ اب نہ کوئی براہ راست پیغمبر آنے والا ہے اور نہ کوئی بالواسطہ پیغمبر۔ پیغمبر اسلام کے بعد دین خداوندی کا متن محفوظ ہو گیا۔ عملی طور پر اُس کا ایک تاریخی نمونہ قائم ہو گیا۔ دنیا کے حالات میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں جن کے بعد دین خداوندی میں کسی قسم کی تحریف کا امکان باقی نہیں رہا۔ اس لیے اب کسی نئے نبی کی ضرورت بھی نہیں۔ ۲۔ میرے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اُسی طرح ہو چکی ہے جس طرح دوسرے پیغمبروں کی ہوئی۔ جہاں تک حضرت مسیح کی آمدثانی کا سوال ہے تو اس بارہ میں میری رائے تقریباً وہی ہے جو علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے :
ابن مریم سے مسیح ناصری مقصود ہیں یا مجدد جس میں ہوں فرزند مریم کی صفات ۳۔ مہدی کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی طرح کوئی عہدہ نہیں ہے بلکہ وہ خدمتِ دین کا ایک معاملہ ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، مہدی دراصل ایک ہدایت پایا ہوا شخص ہوگا، نہ کہ ہدایت دینے والا شخص۔ غالباً اسی لیے اُس کو ہادی نہیں کہا گیا بلکہ مہدی کہا گیا۔ بعض روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک ایسا وقت آئے گا جب کہ بگاڑ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ حقیقی سچائی لوگوں سے اوجھل ہو جائے گی۔ اُس وقت اللہ کی توفیق سے ایک ’’رجل مؤمن‘‘ ہوگا جو حقیقی سچائی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues