Politics is the art of the possible.
الرسالہ، جون ۲۰۰۳
اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ مسائل ہر ایک کو پیش آتے ہیں، خواہ اُس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ گھر والوں کی طرف سے شکایات ہوں تو اُن کا جواب تحمّل کے ساتھ دیا جائے۔ ردّعمل کا طریقہ ہرگز نہ اختیار کیا جائے۔ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز دانش مندی ہے، نہ کہ زیادہ آمدنی۔ سوال یہ حقیقت واضح ہے کہ پانچ وقت کی نماز کا تحفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں عطا کیا گیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول معراج میں جانے سے قبل بیت المقدس میں تمام سابقہ انبیاء کرام کی امامت فرمارہے ہیں ۔ برائے مہربانی یہ بتانے کی زحمت فرمائیں کہ وہ کون سی نماز تھی جس کی ہمارے رسول نے امامت فرمائی۔ (زبیر احمد، بهاگلپور)
جواب
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال سے منع فرمایا اور یہ کہا کہ پچھلی امتیں کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں (فانما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم (النسائی، کتاب الحج، مسند احمد ۲ / ۲۷۲)
مذکورہ سوال اسی نوعیت کا ایک سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اس قسم کا سوال ذہن میں آئے تو اُس کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر اِس کو اپنے دماغ سے نکال دینا چاہئے، نہ یہ کہ اُس کا جواب حاصل کرنے کے لیے اپنا وقت ضائع کیا جائے۔
کثرت سوال سے مراد دراصل غیر متعلق سوال (irrelevant question) ہے۔ اصل یہ ہے کہ فکر صحیح کے لیے ترکز (concentration) بہت ضروری ہے۔ ترکیز یہ ہے کہ آدمی اپنے فکری عمل کو صرف متعلق سوال تک محدود رکھے اور غیر متعلق سوال میں اُلجھنے سے اپنے آپ کو بچائے۔ مثلاً انبیائے کی امامت کے معاملہ میں یہ ایک غیر متعلق سوال ہے کہ وہ نماز کس وقت کی نماز تھی۔ اُس کا اصل پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اہتمام کے تحت پیغمبر اسلام نے تمام انبیائے کی امامت کی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues