Al-Risala · June 2003 · page

Politics is the art of the possible.

الرسالہ، جون ۲۰۰۳

یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ پچھلے نبیوں کے پیروؤں کو چاہئے کہ اب وہ ہدایت کے معاملہ میں پیغمبرِ اسلام کی اقتدا کریں۔

ایسا جو کیا گیا اُس کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ دوسرے ادیان کو ماننے والے یہ جان لیں کہ اب نجات دینِ محمدی کی پیروی میں منحصر ہوگئی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی اُمّت اپنی بڑھی ہوئی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ انسانیت کے حق میں اُس کی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مزید شدّت کے ساتھ تمام انسانوں تک پیغمبرِ اسلام کا لایا ہوا دین پہنچائے۔ وہ اس معاملہ میں آخری حد تک لوگوں کی ہدایت کے لیے حریص بن جائے۔

سوال

حدیث میں یہ پیشین گوئی آئی ہے کہ مسلمان تہتر فرقوں میں بٹ جائیں گے اور ایک کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے۔ کیا آج کے دور میں ایسا کوئی فرقہ موجود ہے جو رسول اللہ ﷺ کے طریقوں پر ہو بہو عمل پیرا ہے جس سے ہم اپنا ناطہ جوڑ کر اپنی عاقبت سنوار سکیں ۔ مذکورہ حدیث کا صحیح مفہوم بھی سمجھائیے۔ (محمد اسلم چوگلے، باندرا)

جواب

مذکورہ حدیث میں اگر چہ فرقہ کا لفظ آیا ہے مگر اُس سے مراد اجتماعی معنوں میں کوئی فرقہ یا تنظیم یا جماعت نہیں ہے۔ اٗس سے مراد کوئی مجموعی فرقہ نہیں ہے بلکہ ایسے صالح افراد ہیں جو بگاڑ کے زمانہ میں امت کے اندر پائے جائیں گے۔ بعد کے زمانہ میں دین کے نام پر اُمت کے اندر جو تنظیمیں بنائی گئیں وہ میرے نزدیک تنظیمی بدعتیں تھیں۔ یہ تصور بلا شبہ بے بنیاد ہے کہ ان تنظیموں میں سے کوئی تنظیم ایسی ہے جو فرقہ ناجیہ کی حیثیت رکھتی ہو اور جس سے منسلک ہو کر نجات حاصل ہو جائے۔ اسلامی تصور کے ہے؟ برگزیدہ نہیں، عیسائیوں کی طرح اور نہ ہی ہندؤں کے رجحانات، بلکہ مطابق، نجات ایک انفرادی معاملہ ہے، نہ کہ اجتماعی معاملہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2003 All issues

Printed page