Al-Risala · July 2003 · page

Option for Saddam Husain

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

حسبِ معمول میرا رہنما اصول وہی رہا ہے جس کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے ــ ہر ایک غیر کے خلاف فریاد کرتا ہے ــ مگر سعدی کو خود اپنے آپ سے شکایت ہے:

ہر کس از دستِ غیر نالہ کند سعدی از دست خویشتن فریاد قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ کی ابتدائی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجدِ حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تا کہ ہم اُس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں ــ بے شک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اُس کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کار ساز نہ بناؤ۔ تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، بے شک وہ ایک شکر گز ار بندہ تھا۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دومرتبہ زمین (شام) میں فساد برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گےـ پھر جب اُن میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری اُن پر لوٹا دی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کام کروگے تب تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کام کرو گے تو بھی تم اپنے لیے برا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر اُن کا زور چلے اُس کو وہ برباد کر دیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے ۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے (بنی اسرائیل ۱-۸)

قرآن کے اس حصہ میں مکہ کی مسجد حرام سے یروشلم کی مسجد اقصی تک پیغمبرانہ سفر کا ذکر ہے ۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے غالباً ۶۲۱ء میں پیش آیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو اس میں یروشلم کی جو نشانی دکھائی گئی وہ کون سی نشانی تھی۔ نشانی ( آیت) کا لفظ قرآن میں تاریخی کھنڈروں کے لیے استعمال ہوا ہے (الحجر ۷۵)۔ اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کی نشانی سے مراد

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page