Al-Risala · July 2003 · page

Option for Saddam Husain

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

مسجدِ اقصی تھی جو اس سفر کے وقت ایک کھنڈر کی حالت میں تھی۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، مسجدِ اقصی کو دوسری بار ٹائٹس (Titus) رومی نے ۷۰ء میں مکمل طور پر ڈھادیا تھا۔ پیغمبرِ اسلام کے سفر کے وقت مسجدِ اقصی اِسی کھنڈر کی حالت میں تھی۔ مسجدِ اقصی کی موجودہ عمارت بعد کو بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں بنائی گئی۔

یروشلم کی نشانی کو دکھانے کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد فوراً بنی اسرائیل کی تاریخ بتائی گئی جو مسجدِ اقصی کے کھنڈر سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ تاریخ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنا ہدایت نامہ دیا تا کہ وہ اس پر عمل کریں اور دوسری قوموں کو اس سے آگاہ کریں مگر بنی اسرائیل کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ اور سرکشی آگئی۔ اس کے بعد ان پر خدا کی مختلف تنبیہات آئیں۔ ان تنبیہات کا انتہائی ظہور ۵۸۶ ق م میں ہوا جب کہ بابل کے حکمران بخت نصر (Neouchadnezzar) نے مرکز یہود یروشلم پر حملہ کر کے مسجدِ اقصی (ہیکل سلیمانی) کو تباہ کر دیا۔

مذکورہ قرآنی بیان کے مطابق، اس صدمہ کے بعد یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے توبہ و اصلاح کی۔ اس کے بعد خدا نے ان کی مدد کی اور ان کو دوبارہہ ایک ترقی یافتہ قوم بنا دیا۔ چند نسلیں گزرنے کے بعد بنی اسرائیل میں پھر بگاڑ شروع ہوا۔ دوبارہ اُن کو مختلف تنبیہات بھیجی گئیں ۔ مگر ان کا بگاڑ جاری رہا۔ آخر کار دوبار ۷۰ء میں رومی حکمران نے یروشلم پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی (مسجد اقصی) کو تباہ کر دیا جو کہ یہودیوں کے لیے عزت اور سرفرازی کی علامت کی حیثیت رکھتا تھا۔ قرآنی بیان کے مطابق، اس کے بعد دوبارہ یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے اپنی اصلاح کی اور پھر دوبارہ وہ خدا کی رحمت کے مستحق قرار پائے۔

یہود کی تاریخ میں اس طرح زوال کے بعد تنبیہات کا آنا اور پھر تباہی سے دوچار ہونے کے بعد ان کا دوبارہ ترقی کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو یہود کی تاریخ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ یہ تباہی یہود کی تاریخ اور ان کے ادب میں ایک تاریخ ساز واقعہ بن گئی:

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page