Al-Risala · July 2003 · page

Option for Saddam Husain

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

The disaster became the great epoc-making event in Jewish history and literature. (13/48) غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قرآنی بیان میں لنریہ من آیاتنا (بنی اسرائیل ۱) میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قدیم اہل کتاب (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں جس طرح دو بار تنبیہی حادثہ کا واقعہ پیش آیا اسی طرح امت مسلمہ میں بھی دو بار تنبیہی حادثہ کا واقعہ پیش آئے گا۔ جب ایسا ہو تو امت مسلمہ کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ اس کے اندر احتساب اور اصلاح کی تحریکیں اٹھیں۔ اسی احتساب اور اصلاح کے ذریعہ ممکن ہوگا کہ امت مسلمہ دوبارہ خدا کی رحمت کی مستحق بنے جس طرح قدیم اہل کتاب ایسے ہی عمل کے ذریعہ مستحق بنے تھے۔

قدیم اہل کتاب (یہود) پر دو بار جو تنبیہی عذاب آیا وہ اُن کے مرکزی مقام یروشلم میں آیا۔ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کے ساتھ اسی طرح دو بار جو تنبیہی واقعہ آنے والا ہے وہ بھی امت مسلمہ کے تاریخی مرکز بغداد میں آئے گا۔ پہلی بار مرکزِ اقتدار کے طور پر، اور دوسری بار مرکزِ دولت کے طور پر۔ یہ تنبیہی واقعہ امت کے استیصال کے لیے نہیں ہوگا بلکہ یہ دھماکہ خیز واقعہ امت کو جگانے کے لیے اور اس کو دوبارہ زندہ امت بنانے کے لیے ہوگا۔ واضح ہو کہ ایسا واقعہ حجاز کے علاقہ میں نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ حدیث کی صراحت کے مطابق، حجاز کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے محفوظ علاقہ قرار دیا ہے۔ (مشکوٰة المصابیح ار ۴۰)

جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ طولِ امد (الحدید ۱۶) سے لوگوں میں قساوت آتی ہے، یعنی قوم کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آ جاتا ہے۔ یہ بگاڑ بڑھتے بڑھتے جب اپنی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے تو خدا کی طرف سے وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو قرآن میں بعثنا علیکم عباداً لنا اولی باس شدید (بنی اسرائیل ۵) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ امت مسلمہ میں یہ واقعہ پہلی بار تیرہویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب امت مسلمہ سے حقیقی دینی اسپرٹ نکل چکی تھی اور وہ ایک بے روح ڈھانچہ بن گئی تھی۔ اس وقت چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کی قیادت میں وحشی تاتاریوں کی فوج اُٹھی اور اِس نے اس وقت کی عباسی سلطنت کو تباہ کر دیا جس کا مرکز بغداد تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page