Al-Risala · July 2003 · page

US aggression would be counter-productive

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

قبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئے ۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر حملہ کر دیا۔ دوسری طرف صدر امریکا جارج بش کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے ۔ دنیا کے بیشتر مدبرین اور بہت سے لوگوں نے عراق کے خلاف امریکا کی فوجی کارروائی کی مخالفت کی ۔ خود راقم الحروف نے اس معاملہ میں امریکا کو اس اقدام کے خلاف کھلے طور پر متنبہ کیا تھا۔ گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے حادثہ کے صرف ایک ہفتہ بعد میں نے ایک اخباری انٹرویو دیا تھا جو نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ The Times of India کے شمارہ ۱۶ ستمبر ۲۰۰۱ میں چھپا تھا۔ اس میں میں نے واضح طور پر کہا تھا کہ امریکا کو پر امن ذرائع سے اپنا عمل کرنا چاہئے ۔ اگر اس نے فوجی کارروائی کی تو اس کا نتیجہ آخر کار الٹا نکلے گا۔

US aggression would be counter-productive

مگر امریکی صدر جارج بش نے کسی کے مشورہ کو نہیں مانا اور عراق پر حملہ کر دیا۔ ان غیر موافق اسباب کے باوجود عراق کی ہولناک جنگ شروع ہوئی ۔ اس جنگ کی ایک امتیازی صفت یہ تھی کہ اس کو ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے T.V.Set پر شروع سے آخر تک دیکھا۔ چونکہ دنیا بھر کے مسلمان اس معاملہ میں صدام حسین کے حامی تھے اور اپنے آپ کو پوری طرح صدام حسین اور عراق کے ساتھ وابستہ کئے ہوئے تھے اس لیے یہ حملہ عملاً ساری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف حملہ بن گیا۔ ہر مسلمان مرد اور عورت نے اس کی زد کو اپنے اوپر محسوس کیا۔ یہ مسلمانوں کی تاریخ میں غالباً پہلا موقع تھا کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی آبادی بیک وقت اپنے اوپر تباہی کو ٹوٹتا ہوا دیکھے مگر وہ اُس کے خلاف کچھ نہ کر سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ۔ یہ دراصل ایک قسم کا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہے جو خدائی فیصلہ کے تحت پیش آیا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو جگانا اور اُن کے اندر نظر ثانی کی تحریک چلا کر انہیں دوبارہ صحت مند حالت کی طرف لے جانا ہے۔

شاک ٹریٹمنٹ ہی فطرت کا واحد اصلاحی طریقہ ہے۔ فطرت کا اس طرح کے معاملات میں یہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page