نئی دہلی ، ۷ مئی ۲۰۰۳ وحید الدین
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
ابدی اصول ہے کہ تعمیر سے پہلے تخریب کی جائے۔ نیا ڈھانچہ بنانے سے پہلے پرانے بے روح ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولا ناروم نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ جب کسی تعمیر کو دوبارہ بنانا ہوتا ہے تو پہلے پرانی تعمیر کو ڈھادیا جاتا ہے: چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند تیرہویں صدی میں بغداد پر تاتاری حملہ کی صورت میں جو تنبیہی واقعہ پیش آیا وہ ایک اعتبار سے امت مسلمہ کے لیے خدائی تازیانہ تھا۔ دوسرے اعتبار سے اس واقعہ میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ اس تازیانہ کے بعد اُمت کی سرگرمیوں کا رُخ کس سمت میں ہونا چاہئے ۔
عام مسلم تاریخوں میں اگر چہ یہ پہلو تقریباً غیر مذکور ہے۔ مگر انگریز مستشرق ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے غیر معمولی تحقیق کے بعد اس کو نمایاں کیا ہے ۔ اُن کی یہ تحقیق اُن کی کتاب دعوت اسلام (The Preaching of Islam) میں تفصیل کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ تاریخ بتاتی ہے کہ اُس زمانہ کے مسلمانوں کے لیے جب سیاسی اور فوجی راستے عملاً بند ہو گئے تو اُنہوں نے دعوتی رُخ پر اپنی جد وجہد شروع کر دی ۔ مسلم مردوں اور مسلم عورتوں نے بڑے پیمانہ پر اور خاموش طور پر اسلام کی دعوت کا کام شروع کر دیا ۔ اس کا نتیجہ جلد ہی مثبت انداز میں نکلنے لگا۔ یہاں تک کہ صرف پچاس سال کے اندر یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ تاتاریوں کی اکثریت نے خدا کے دین کو اپنا دین بنا لیا ۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن مسلمانوں کے سب سے بڑے دوست بن گئے ۔
مجھے یقین ہے کہ جس طرح تیرہویں صدی میں تاتاری حملہ کے بعد اسلام کی تاریخ کا ایک نیا دور آگیا تھا اُسی طرح اکیسویں صدی میں دوسری بار امریکی حملہ کے بعد یقینی طور پر اسلام کی نئی زندہ تاریخ شروع ہوگی ، وہ تاریخ جس کا پوری انسانیت کو انتظار ہے۔
نئی دہلی ، ۷ مئی ۲۰۰۳ وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues