۲۳ مارچ ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
ساتھیوں اور فوجی جنرلوں کے ساتھ بغداد کے باہر ایک خصوصی میٹنگ کر رہے تھے۔ یہ میٹنگ نہ کسی بنکر میں تھی اور نہ صدام حسین کے بہت سے محلوں میں سے کسی محل میں ۔ اس میٹنگ کو صیغہ راز میں رکھنے کے لیے اُس کا انتظام ایک نجی مکان میں کیا گیا تھا۔ یہ لوگ یہاں صرف چند گھنٹہ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ مگر امریکا کے خفیہ محکمہ کو اس کا علم ہو گیا اور عین وقت پر ٹھیک اُس مقام پر بم گرایا گیا جس سے وہ مکان تباہ ہو گیا۔ امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں صدام حسین یا تو مر گئے یا شدید زخمی ہو گئے۔ عراقی ذرائع نے خود حملہ کی تردید نہیں کی۔ البتہ وہ اس کی تردید کر رہے ہیں کہ صدام حسین اُس کی زد میں آئے۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ صدام حسین یقینی طور پر اس ہوائی حملہ میں زخمی ہوئے ہیں۔ البتہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ زخمی ہونے والا انسان ریل(real) صدام تھا یا ڈبل (double) صدام۔
۲۳ مارچ ۲۰۰۳
بی بی سی لندن نے ایک رپورٹ نشر کی۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اینٹی امریکا جلوس نکال رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اُردن کے ایک جلوس میں شرکت کی۔ وہاں عرب نو جوانوں نے نہایت جوش کے ساتھ جلوس نکالا تھا۔ ایک عرب نو جوان سے بی بی سی لندن کے نمائندہ نے بات کی۔ عرب نو جوان نے کہا کہ صدام ہمارا ہیرو ہے۔ صدام ہی اسرائیل کو کچل سکتا ہے۔
یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت تمام دنیا کے مسلمان صدام حسین کے حامی بن گئے ہیں۔ ایک بلین مسلمانوں میں شاید میں اکیلا ہوں جو صدام حسین کا حامی نہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے صدام حسین کے غلط کاموں پر اُس کی مذمت نہیں کی۔ صدام حسین بعث پارٹی کے ممبر ہیں جو کہ ایک قومی پارٹی ہے، نہ کہ دینی پارٹی۔ صدام حسین نے اپنے فوجی منصب کا غلط استعمال کر کے عراق پر قبضہ کر لیا۔ وہ عراق کے تیل کی دولت میں بے جا طور پر تصرف کر رہے ہیں۔ صدام حسین نے سے سیاسی مخالفین کو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاک کر دیا۔ صدام حسین نے ایران اور کویت کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues