۲۱ مارچ ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
اپنے جدید ترین ہتھیاروں کا تجربہ کر سکے۔ وہ اپنے مہلک ہتھیاروں کا مظاہرہ کرکے اسلحہ کی عالمی منڈی میں اپنی تجارت کو بڑھا لے، وغیرہ۔
۲۰ مارچ ۲۰۰۳ کو امریکا کے فضائی بمباروں نے عراق پر ہوائی حملہ کرکے جنگ کا آغاز کر دیا۔ اس جنگ کی تیاری بہت دنوں سے جاری تھی۔ آخر میں امریکا نے عراقی صدر صدام حسین کو یہ الٹی میٹم دیا کہ ۴۸ گھنٹہ میں عراق کو چھوڑ کر باہر چلے جاؤ یا جنگ کا سامنا کرو۔ صدام حسین نے اس الٹی میٹم کو رد کر دیا۔ آج صبح الٹی میٹم کا وقت ختم ہونے کے ۹۵ منٹ بعد امریکی صدر جارج بش کے حکم سے عراق پر ہوائی حملہ کر دیا گیا۔
۲۱ مارچ ۲۰۰۳
انگلینڈ سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے عراق پر امریکی حملہ کی مذمت کی۔ میں نے کہا کہ امریکا کا عراق پر حملہ بلا شبہ قابل مذمت ہے مگر آپ کو یا میرے سوا دوسرے مسلمانوں کو اس مذمت کا حق نہیں۔ میں نے کہا کہ پچھلے سیکڑوں سال کے درمیان مختلف مسلم حکمراں مثلاً بابر، غزنوی اور غوری، وغیرہ اسی قسم کے حملے کرتے رہے مگر کسی بھی مسلمان نے نہ پہلے اُس کی مذمت کی اور نہ آج وہ اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ میں اکیلا مسلمان ہوں جو ان واقعات کی تبریر (justification) نہیں کرتا۔ آپ لوگوں کو یا تو دونوں حملوں کو جائز بتانا ہوگا یا دونوں حملوں کو ناجائز قرار دینا ہوگا۔ تضاد فکری کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ میں چونکہ مسلم حکمرا نوں کے اس قسم کے جارحانہ حملوں کو قابلِ مذمت سمجھتا ہوں اس لیے مجھے یہ حق ہے کہ میں جارج بش کے جارحانہ حملہ کی مذمت کروں۔
امریکا نے عراق پر جو حملہ کیا ہے، اس حملہ کو شاک اینڈ آ (Shock and Awe) کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی حیرانی کا جھٹکا۔ آج کے اخباروں میں بتایا گیا ہے کہ صدام حسین اپنے قریبی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues