Al-Risala · July 2003 · page

۲۶ مارچ ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

میں ہے۔ گویا امریکا نے بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔ اس جنگ میں امریکا کی جیت ہو یا ہار، اُس کو آئندہ اس کی بنا پر سنگین مسائل کا سامنا پیش آئے گا۔

آج عراقی جنگ کا چھٹا دن ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا بھر کی عوام کی اکثریت امریکا کے اس فوجی اقدام کی مخالف تھی۔ ایسی حالت میں امریکا کی حکومت نے کیوں عراق پر حملہ کیا۔ اُس کا ایک خاص سبب ہے۔ امریکا کے مدبّرین یہ سمجھتے تھے کہ عراق کے عوام صدام حسین کی آمرانہ حکومت کے مخالف ہو چکے ہیں۔ وہ امریکی فوج کو نجات دہندہ سمجھ کر اُس کا استقبال کریں گے مگر غالباً ایسا نہیں ہوا۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۵ مارچ ۲۰۰۳) کی ایک رپورٹ میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں : The earlier expectation was that the Iraqi towns would welcome the Americans as liberators and not require any pacification. (p. 12)

ہزار سال پہلے مسلم فوجوں نے ایشیا اور افریقہ کے اکثر ملکوں میں نہایت تیزی سے فتح حاصل کر لی تھی۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ ان ملکوں کے عوام اپنے حکمرانوں سے ناراض تھے۔ چنانچہ انہوں نے مسلم فوجوں کا استقبال نجات دہندہ کی حیثیت سے کیا مگر آج ایسا نہ ہوسکا۔ اس کا بڑا سبب زمانی فرق ہے۔ قدیم زمانہ کی جنگ صرف میدان جنگ میں دو فوجوں کے درمیان ہوتی تھی ۔ عوام براہ راست طور پر اُس کی زد میں نہیں آتے تھے۔ آج کی جنگ نئے ہتھیاروں سے ہوتی ہے۔ اُس کے برے اثرات فوراً ہی عوام تک پہنچنے لگتے ہیں۔ اس بنا پر عوام کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اُن کے ملک پر حملہ کرنے والے لوگ مصیبت دہندہ ہیں، نہ کہ نجات دہندہ۔

۲۶ مارچ ۲۰۰۳

رپورٹ کے مطابق، امریکا کی فوج میں پندرہ ہزار مسلمان ہیں۔ یہ لوگ ایک قسم کے نفسیاتی بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ وہ امریکا کی فوج میں شامل ہو کر ایک مسلم ملک عراق کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی مسلمان جس کا نام اکبر تھا اور کویت میں امریکی فوج کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page