Al-Risala · July 2003 · page

۲۶ مارچ ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

ساتھ تھا، اُس نے ذہنی پریشانی کے عالم میں امریکی فوجیوں کے ایک کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کر دیا اور چھ امریکیوں کو مار ڈالا۔

میرے نزدیک اس معاملہ میں امریکی مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے وہ یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی فوج میں شامل ہو کر مسلم ملک کے خلاف لڑیں یا نہ لڑیں۔ حقیقی چوائس صرف یہ ہے کہ وہ امریکی شہریت کو قبول کریں یا شہریت کو چھوڑ کر امریکا سے باہر آ جائیں۔ میرے نزدیک یہ ایک دو عملی (duplicity) کی روش ہے کہ امریکا کی شہریت لے کر وہاں کی مادی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب امریکا کو کوئی قومی لڑائی پیش آئے تو اُس لڑائی میں امریکا کا ساتھ نہ دیا جائے۔ آج کل اُمّہ کا جو تصور مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے مجھے ذاتی طور پر اِس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے عالمی امت ہیں مگر وطن کے اعتبار سے اُن کی وفاداریاں اُسی طرح اپنے وطن کے ساتھ ہونی چاہئیں جس طرح دوسری قوموں کے لوگ اپنے مذہب کے اعتبار سے الگ تشخص رکھنے کے باوجود وطنی معاملات میں بقیہ اہل وطن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۳ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس (۲۷ مارچ) میں مسٹر اشوانی کمار کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ اس آرٹیکل میں وہ عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ جنگ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ میں امریکا کی عمارتوں پر حملہ کا متناسب جواب ہے: Does the war represent a proportionate response to 9/11. (p. 12)

میرے نزدیک یہ ایک غیر متعلق سوال ہے۔ اس طرح کے معاملات میں کبھی کوئی حکومت برابر کا جواب یا متناسب جواب نہیں دیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تناسب کا مذکورہ اصول صرف معمول کے حالات میں قابل عمل ہے۔ غیر معمولی حالات میں کوئی بھی تناسب کے اس اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ انتقامی کارروائی کرنے والا ہمیشہ اپنی طاقت کے اعتبار سے جوابی کارروائی کرتا ہے، نہ کہ تناسب کے اعتبار سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page