یکم اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
کیا جائے۔ مگر مسلمانوں نے اس سیال سونے کو یا تو اپنے ذاتی عیش کے لیے استعمال کیا یا اپنی مہنگی عداوتی سیاست کا بل ادا کرنے کے لیے۔
یہ مہنگی عداوتی سیاست موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم ملکوں میں چل رہی ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، افغانستان، لیبیا، سوڈان، شام، ایران، وغیرہ۔ اس فہرست میں صدام حسین کی قیادت میں عراق نے اس وقت نمبر ایک کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ عداوتی نفسیات کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو صدام حسین کے ساتھ بریکیٹ کرلیاہے۔ ساری دنیا کے مسلمانوں نے اپنے آپ کو عراق سے منسوب کر رکھا ہے۔ اُن کی اولاد اور اُن کے رشتہ دار خواہ امریکا میں ڈالر کما رہے ہوں مگر وہ تقریباً سب کے سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر اینٹی امریکا اور پرو عراق بولی بول رہے ہیں۔ یہ صورت حال مسلمانوں کے لیے ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مسلمان نبی آخر الزماں کی امت ہونے کے اعتبار سے ایک داعی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کی لازمی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دنیا کی قوموں کو دین کی دعوت دیتے رہیں۔ اسی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اُنہیں تیل کی دولت دی گئی تھی تاکہ وہ دعوتی عمل کی ہر ممکن قیمت ادا کرتے ہوئے اس کونسل در نسل جاری رکھ سکیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے یہ عظیم جرم کیا کہ نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیں کیا بلکہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کا جنگل آگا کر دعوت کے امکانات کو برباد کر دیا۔ بظاہر کچھ مسلم گروہ دعوت کا نام لیتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر یہ اُن کے جرم میں صرف اضافہ کے ہم معنیٰ ہے۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ کوئی دعوت کے نام پر سیاست چلا رہا ہے۔ کوئی دعوت کے نام پر بزنس کر رہا ہے۔ کوئی جزئی اصلاح کر رہا ہے اور بطور خود اس کو دعوت کا نام دے رکھا ہے۔ کچھ لوگ کمیونٹی ایکٹوزم جیسی قومی تحریکیں چلا رہے ہیں اور اُس کو دعوت کا نام دیے ہوئے ہیں، وغیرہ۔
عراق کے خلاف امریکا کی جنگ کے معاملہ میں ساری دنیا کے مسلمان لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق ، ہر ایک بس ردّعمل کی زبان استعمال کر رہا ہے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues