Al-Risala · July 2003 · page

یکم اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

اوپر ایک خدائی آپریشن ہے (بنو اسرائیل (۵)۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک خدائی تازیانہ ہے، نہ کہ محض ایک امریکی کارروائی۔

حقیقت یہ ہے کہ عراقی لیڈر اس برائی کی علامت بن گئے ہیں جو اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں نے صدام حسین کو اپنا ہیرو بنالیا ہے۔ یہ گویا اس مسلم سیاست کا ایک انتہائی اظہار ہے جو پچھلے تقریباً دو سو سال سے مسلمانوں کے اندر چل رہی تھی۔ موجودہ زمانہ میں جب مغربی کولونیلزم کا مسئلہ پیدا ہوا تو ساری دنیا کے مسلمانوں میں ایسے لیڈر اُبھرے جو کسی نہ کسی اعتبار سے عداوتی نعروں پر کھڑے ہوئے تھے۔ نعرہ کے الفاظ مختلف تھے مگر سب کی اسپرٹ ایک تھی—پان اسلامزم، عرب نیشنلزم، اسلامک فنڈامنٹلزم، مسلم ریوائیولزم، جہاد ایکٹیوزم، اسلامک ریڈیکلزم، ٹوٹل اسلامزم، وغیرہ سب اس کے مظاہر ہیں۔ یہ تحریکیں جو پچھلے دوسوسال کے اندر ساری مسلم دنیا میں پھیل گئیں وہ مشترک طور پر عداوت پر مبنی سیاست کا نتیجہ تھیں۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ دعوت پر مبنی سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس غیر اسلامی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ساری دنیا کو اپنا دشمن فرض کرلیا۔ اور تمام قوموں سے متنفر ہو کر ان کے خلاف نظری یا عملی طور پر منفی جہاد چھیڑ دیا۔ ۲ اپریل ۲۰۰۳ ایک حدیث میں دریائے فرات کا ذکر آیا ہے جو عراق میں واقع ہے اور جہاں آج کل جنگ ہورہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: يوشك الفرات ان يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا ياخذ منه شيئا (صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعة)۔ یعنی قریب ہے کہ فرات میں سونے کا ایک خزانہ نکلے، جو کوئی وہاں ہو تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ اس حدیث میں واضح طور پر تیل کے ذخائر کی طرف اشارہ ہے جس کو سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے۔ اس سیال سونے کا بہت بڑا حصہ خدا نے عرب کی سر زمین کے نیچے رکھ دیا تھا۔ اس حدیث کے مطابق ، اس سیال سونے کا خزانہ اس لیے تھا کہ اُس کو خدائی مشن میں استعمال

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page