Al-Risala · January 2003 · page

اہل جنت کے درجات

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

اہل جنت کے درجات

قرآن میں جنت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ لوگو، دوڑو اپنے رب کی معافی کی طرف اور ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے۔ (الحدید ۲۱) دوسری جگہ اہل جنت کی زبان سے یہ خبر دی گئی ہے کہ اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا (الزمر ۷۴)

قرآن کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنت ایک ایسی دنیا ہوگی جو تمام جنتیوں کے لیے کھلی ہوئی ہوگی۔ کوئی جنتی انسان اس وسیع دنیا میں جہاں چاہے گا اپنا مبدأ (اقامت گاہ) بنا سکے گا۔ اقامت یا سکونت کے اعتبار سے ہر جنتی کو یکساں آزادی حاصل ہوگی۔

دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ جنت میں فرق مراتب ہوگا۔ کچھ جنتی افراد دوسرے جنتیوں کے مقابلہ میں زیادہ اونچی جنت کے مالک ہوں گے۔ مثلاً قرآن کے مطابق، اُن میں سے کچھ سابق ہوں گے اور کچھ مقتصد (فاطر ۳۲) اب سوال یہ ہے کہ یہ فرق مراتب کس اعتبار سے ہوگا۔ غور کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہ فرق استمتاع (enjoyment) کے اعتبار سے ہوگا۔ جنت اپنے ظواہر کے اعتبار سے غالباً ہر ایک کے لیے یکساں ہوگی مگر جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہونے کا جو معاملہ ہے، وہ ہر ایک کے لیے یکساں نہ ہوگا۔ کسی کو جنت کی نعمتوں سے زیادہ حظّ ملے گا اور کسی کو نسبتاً کم۔

محظوظیت کا یہ فرق معرفت یا شعور کے فرق کی بنیاد پر ہوگا۔ دنیا کی زندگی میں جو شخص شعور یا معرفت کے جس درجہ پر پہنچا ہوگا اُسی درجہ کے برابر وہ جنت کی نعمتوں سے محظوظ ہو سکے گا۔ گویا مکانی اعتبار سے جنت کے تمام افراد یکساں طور پر اقامت میں شریک ہوں گے، مگر جو شخص شعوری اعتبار سے ارتقاء کے جس درجہ پر ہوگا اُسی نسبت سے وہ جنت کی نعمتوں سے متمتع ہو سکے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page