اہل جنت کے درجات
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳، صفحہ ۴
اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجئے۔ محدث البیہقی نے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: ان عبداللہ بن رواحة قال لصاحب له: تعال حتى نؤمن ساعة، قال: أو لسنا بمؤمنين؟ قال: بلیٰ ولكنّا نذكر الله فنزداد ایماناً (حياة الصحابة، الجزء الثالث، صفحہ ۱۳)۔ یعنی عبداللہ ابن رواحہ نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ، ہم ایک ساعت کے لیے ایمان لائیں۔ ساتھی نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں؟ ابن رواحہ نے کہا کہ ہاں، مگر جب ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ہم اپنے ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔
اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک انسان وہ ہے جو کلمہ توحید کا اقرار کرنے کے بعد یہ سمجھے کہ وہ صاحبِ ایمان ہوگیا، جو ایمان اُس کو ملنا تھا وہ اُسے مل گیا۔ ایمان یا عقیدہ کے اعتبار سے اب اُسے کچھ اور پانا نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا انسان وہ ہے جو بار بار اللہ کو یاد کرے، وہ اللہ پر غور وفکر کرے۔ اور اس طرح وہ اپنی معرفتِ ایمانی کو بڑھاتا رہے اُس کا ایمان مسلسل شعوری ترقی کرتا رہے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحابِ ایمان میں معرفت کے اعتبار سے درجات ہوتے ہیں۔ کوئی اعلیٰ معرفت کے درجہ پر ہوتا ہے اور کوئی اُس سے کم معرفت کے درجہ پر۔ معرفتِ حق کا یہ فرق جنت میں استمتاع کے اعتبار سے فرق پیدا کر دے گا۔
ایک مومن وہ ہے جس نے قرآن میں الحمد للہ رب العلمین پڑھا تو اُس نے کسی شک اور تردد کے بغیر اس حقیقت کو مان لیا۔ اُس نے یقین (conviction) کے درجہ میں اُس کو قبول کر لیا۔ قرآن کا دوسرا قاری وہ ہے کہ جب اُس نے الحمد لله رب العلمين پڑھا تو اس آیت میں تخلیقِ الہی کے ایسے گہرے معانی اُس کے ذہن میں تازہ ہو گئے کہ اُس کے اندر اہتزاز (thrill) کی کیفیت پیدا ہو گئی ۔ وہ حمد خداوندی کے جذبہ سے سرشار ہو گیا۔
اسی طرح ایک مومن وہ ہے جس کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو وہ اُس کو ایک سچائی مان کر اُس کو قبول کرلے۔ مثلاً چھینک آنے پر ایک شخص اگر کہے کہ : الحمد للہ ، تو اُس کو سن کر اُس کی زبان
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues