Al-Risala · July 2003 · page

Islam and Terrorism

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

آج کی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں (Allied Forces) نے صدام ائیرپورٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اُس کا نام صدام ائیرپورٹ کے بجائے بغداد ائیرپورٹ رکھ دیا ہے۔ یہ ائیرپورٹ بغداد شہر سے صرف بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اب بظاہر یقینی ہے کہ جلد ہی امریکی فوجیں بغداد پر قبضہ کر لیں گی اور جلد ہی پورا عراق اُن کے ماتحت ہو جائے گا۔ اس معاملہ کا ایک بے حد سبق آموز پہلو ہے۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ اس حملہ کے خلاف تھا۔ روس، جرمنی، فرانس، چین، وغیرہ ممالک امریکا کو اس سے روک رہے تھے۔ تمام دنیا کے مسلمان تقریباً متفقہ طور پر اس معاملہ میں عراق کے حامی اور امریکا کے مخالف بنے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود امریکا نے عراق پر حملہ کر دیا اور دنیا کی کوئی رائے عامہ اس کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس تجربہ میں ایک بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر مسلم رہنماؤں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کے حق میں دنیا کی رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے اور انٹرنیشنل سپورٹ حاصل کرنا ہے۔ کشمیر اور فلسطین اور افغانستان جیسے متعدد مسائل پر ان لوگوں نے اربوں ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے کہ اپنے قومی کاز کے لیے انٹرنیشنل حمایت حاصل کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کا ملنا بھی اتنا ہی بے فائدہ ہے جتنا کہ اس کا نہ ملنا۔ عراق کی مثال بتاتی ہے کہ کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنا صرف ایک نادان خوش فہمی ہے۔ اس کا کوئی بھی حقیقی فائدہ نہیں۔ اگر اس میں فائدہ ہوتا تو عراق کو یہ فائدہ بخوبی طور پر حاصل ہو چکا ہوتا۔ ایک عوامی مثل ہے کہ: بل تو اپنا بل۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی قسم کا فائدہ کسی کو خود اپنی طاقت کے ذریعہ ملتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے کی طاقت کے ذریعہ۔

ہمارے لیڈر جو طاقت کسی مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کرنے میں لگاتے ہیں اُس کو اگر وہ اپنے داخلی استحکام میں لگائیں تو یقینی طور پر وہ زیادہ مفید ہوگا۔

صبح کو میں نے ریڈیو کھولا تو اُس پر امریکا کے صدر جارج بُش کی تقریر آ رہی تھی۔ اُنہوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page