The days of Iraqi regime are coming to an end.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
پرجوش طور پر کہا کہ عراق میں ہمارا آپریشن کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہم اپنے منصوبہ کے مطابق، مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ عراقی حکومت کے دن اب ختم ہونے والے ہیں:
The days of Iraqi regime are coming to an end.
میں نے یہ الفاظ سنے تو میں نے سوچا کہ زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ مسئلہ صرف صدام حسین کا نہیں ہے بلکہ وہ خود جارج بش کا بھی ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان کا کاؤنٹ ڈاؤن (countdown) ہورہا ہے۔ ہر انسان کی مدتِ آخر کار ختم ہونے والی ہے۔ ہر انسان آخر کار موجودہ دنیا سے نکل کر آخرت کی دنیا میں پہنچنے والا ہے۔ وہاں ہر آدمی کو اپنے قول و عمل کا حساب دینا ہوگا۔ وہاں ہر آدمی یکساں طور پر خدا کے فیصلہ کو قبول کرنے پر مجبور ہوگا۔
مگر عجیب بات ہے کہ ہر مرد اور عورت کو صرف دوسروں کے اوپر گزرنے والے معاملے کی خبر ہے، خود اپنی ذات پر جو کچھ گزرنے والا ہے اُس کی کسی کو خبر نہیں۔ یہ ایک ایسی بھول ہے جس میں شاید آج کا ہر انسان مبتلا ہے، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا جاہل، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، یہاں تک کہ اس معاملہ میں مذہبی اور غیر مذہبی کے درمیان بھی شاید کوئی فرق نہیں۔
۶ اپریل ۲۰۰۳
عراق پر امریکی حملہ سے پہلے میں نے ایک مضمون انگریزی میں لکھا جس میں صدام حسین کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اقتدار سے ہٹ جائیں اور عراق چھوڑ کر کسی عرب ملک میں چلے جائیں۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو اور عراقی عوام کو بچا لیں گے۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا: Option for Saddam Husain. کئی عرب ملکوں نے بھی صدام حسین کو خاموشی کے ساتھ یہی مشورہ دیا تھا۔ مگر صدام حسین نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور نادانی کی لڑائی لڑ کر اپنا خاتمہ کر لیا۔ عام طور پر مسلمان اس قسم کے فعل کو عزیمت کہتے ہیں اور اُس پر فخر کرتے ہیں۔ مگر میں اُس کو نادانی کی سیاست سمجھتا ہوں۔ اس قسم کی سیاست کا آغاز جدید دور میں سلطان ٹیپو سے ہوا جو بے سرو سامانی کے باوجود خود ساختہ طور پر شیر کی لڑائی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues