۱۷ اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
لیے مفکرِ اعظم اور شیخِ العالم جیسے خطابات بھی ناکافی ہیں۔ گویا وہ کام بالفعل انجام پا چکا ہے جس کو کرنے کی تلقین یہ حضرات کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ کام کا نتیجہ نہ نکلنے کا ہے، نہ کہ خود کام نہ ہونے کا۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دین کے نام پر جو کام ہو رہا ہے وہ دراصل ملّی کام (community work) ہے اور اس قسم کی سرگرمیاں جو مسلمانوں کے درمیان جاری ہیں وہ ملّی سرگرمیوں (community activities) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر مسلمانوں کی موجودہ سرگرمیاں حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی سرگرمیاں ہوتیں تو اُن کے اندر وہی صفات پیدا ہوتیں جو رسول اور اصحابِ رسول میں پیدا ہوئیں۔ مثلاً خدا کے بندوں کو مدعو سمجھنا اور یک طرفہ بنیاد پر اُن کا خیر خواہ بننا۔ اپنی قومی اور مادی مصلحتوں پر دعوتی مصلحت کو غالب کرنا۔ اسی طرح دو عملی کی روش سے مکمل طور پر پاک ہونا۔ دشمنی کے باوجود عدل کے طریقہ سے نہ ہٹنا۔ قول اور عمل میں تضاد نہ ہونا۔ دیانت داری (honesty) اور اُصول پسندی پر ہر حال میں قائم رہنا، لین دین کے معاملات میں ہمیشہ ذمہ داری کا ثبوت دینا، وغیرہ۔ یہی چیزیں اسلام کا معیار ہیں۔ مفروضہ دشمن کے خلاف تقریر کرنا اسلام کا معیار نہیں۔
۱۷ اپریل ۲۰۰۳
صبح کو میں بی بی سی ورلڈ سروس پر خبریں سُن رہا تھا۔ اس درمیان دو آدمیوں کا مکالمہ نشر کیا گیا۔ ایک اسلام پسند نوجوان کہہ رہا تھا کہ امریکا اسلام دشمن ہے۔ اُس نے اسلام کو مٹانے کے لیے موجودہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں اُس نے ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب کا حوالہ دیا۔ دوسرا آدمی ایک امریکی جرنلسٹ تھا۔ اُس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی لڑائی ٹیررزم کے خلاف ہے، نہ کہ اسلام کے خلاف:
America is fighting against terrorism and not against Islam. مجھے امریکی جرنلسٹ کے جواب سے بالکل اتفاق ہے۔ امریکا کی پالیسی حقیقۃً پرو امریکا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues