Job done in Iraq.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
عظیم تاریخی میوزیم میں گھس گئے اور اُس کے نہایت قیمتی نوادرات کو لوٹ لیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ قیمتی چیزیں لوٹی گئیں۔ ان لوٹنے والوں میں پولیس کے لوگ بھی شامل تھے۔ امریکی حملے کے بعد عراق میں انار کی پھیل گئی۔ حقیقی قومی جذبہ نہ ہونے کی وجہ سے عراقی قوم نے دفاع میں زیادہ حصہ نہ لیا۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر امریکی اور برطانوی فوجیں بہت جلد عراق پر قابض ہو گئیں۔ تاہم فتح کے بعد کے مسائل ابھی عراق میں باقی ہیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ جنگ جیتنا آسان ہے مگر امن قائم کرنا مشکل ہے:
It is easy to win a war, but it is difficult to win peace. ۱۶ اپریل ۲۰۰۳ عراق پر جب سے امریکی حملہ شروع ہوا، ساری دنیا کے مسلم پریس میں اُس کے خلاف مضامین چھپنے لگے۔ ان مضامین میں اکثر وانتم الاعلون ان كنتم مؤمنين (آل عمران ۱۳۹) جیسی قرآنی آیتوں کا حوالہ دے کر پر جوش طور پر کہا گیا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی دولت کو ڈھال بنائیں اور پھر اُنہیں کسی کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔
مثلاً ایک پاکستانی ماہنامہ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کا حملہ دراصل گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہے۔ اور یہ کہ امریکا کا اگلا ہدف پاکستان ہے۔ اور یہ کہ امریکا کی مہم دراصل پورے عالم اسلام کے خاتمہ کی مہم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: امریکا جیسے پاگل ہاتھی سے لڑائی مول لینے کے ساتھ اگر ہم بحیثیت قوم اللہ کا دامن رحمت تھام لیں تو دنیا کی واحد سپر پاور کے مقابلہ میں کائنات کی واحد سُپریم پاور ہمارے لیے کافی ہو جائے گی۔ (حکمت قرآن، لاہور، اپریل ۲۰۰۳ ، صفحہ ۲) یہ بڑی عجیب بات ہے۔ یہ حضرات ایک طرف مسلم ملکوں کی یہ تصویر پیش کرتے ہیں کہ وہاں چند حکمرا نوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی عظیم اکثریت اسلام کی شیدائی ہے۔ کسی جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اُس نے ساری دنیا میں دین کی ہوائیں چلا دی ہیں۔ کوئی مسلم تنظیم یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ اُس کی کوششوں سے آج کا عہد اسلامی عہد بن چکا ہے۔ کسی ادارہ نے ایسے افراد تیار کر لیے ہیں جن کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues