Ideal cannot be achieved.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
صبح کے نشر یہ میں لوگوں کے جوابات بتائے گئے۔ یہ جوابات دنیا کے مختلف حصوں سے آئے۔ زیادہ تعداد نے یہ کہا کہ عراق میں ڈیما کریٹک رول قائم کیا جائے۔ یعنی عراق پر خود عراق کے لوگ حکومت کریں۔ یعنی وہی نظام جو برطانیہ اور امریکا میں قائم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خالص آئیڈیلزم ہے، اور دنیا میںکبھی آئیڈیلزم چلتا نہیں۔
Ideal cannot be achieved.
خالص اصول کا تقاضا خواہ جو بھی ہو مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ پوری مسلم دنیا کی حمایت کے باوجود صدام حسین کی حکومت کو امریکا اور برطانیہ نے فوج کشی کر کے ختم کر دیا۔ ایسی حالت میں حقیقت یہ ہے کہ فاتح نقشہ بنائے نہ کہ مفتوح۔ اسی حقیقت کو فارسی شاعر نے اس طرح کہا ہے کہ جو تلوار چلاتا ہے اسی کے نام کا سکہ چلتا ہے۔
ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند
میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اہل عراق کے لیے جن دو کے درمیان انتخاب ہے وہ امریکا کے ماتحت حکومت اور آزاد جمہوری حکومت کے درمیان نہیں ہے بلکہ ان کے لیے انتخاب امریکا کے ماتحت حکومت یا مزید تباہی کے درمیان ہے، ایسی حالت میں شریعت کا اصول اہون البلیتین کا ہے۔ ۱۹ اپریل ۲۰۰۳ بی بی سی لندن نے ورلڈ نیوز میں بتایا کہ جمعہ (۱۸ اپریل) کو بغداد کی سڑکوں پر مسلمانوں کا ایک بڑا جلوس نکلا۔ اس جلوس کی قیادت نام نہاد اسلام پسند لوگ کر رہے تھے۔ بغداد کی سڑکوں پر گزرتے ہوئے جلوس اپنے لیڈروں کا دیا ہوا یہ نعرہ لگا رہا تھا نہ بش نہ صدام، بلکہ صرف اسلام: No Bush, No Saddam Yes yes to Islam یہ نعرہ بظاہر خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر میرے نزدیک وہ ایک خطرہ کی گھنٹی ہے۔ عراق میں اسلام پسند (الاخوان المسلمون جیسی جماعتوں کے لوگ) موجود تھے۔ سابق صدر صدام حسین نے اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues