Al-Risala · July 2003 · page

۲۰ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

سخت گیر پالیسی کے تحت انہیں دبا رکھا تھا۔ مگر سابق صدر صدام حسین کے خاتمہ کے بعد یہ لوگ دوبارہ عراق میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ زیادہ ابھرے تو یقینی طور پر وہ اسی طرح عراق کو دوبارہ برباد کریں گے جس طرح یہ لوگ مصر، پاکستان، شام، سوڈان، ترکی اور پاکستان جیسے ملکوں کو تباہ کر چکے ہیں۔ میرے نزدیک مذکورہ نعرہ عراق کے لیے ایک خطرہ کی گھنٹی ہے نہ کہ کسی نئے اور بہتر دور کے آنے کی علامت۔ موجودہ زمانہ میں نام نہاد اسلام پسندوں نے اپنی سیاسی تحریکوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ذہن کو تخریبی بنا دیا ہے۔ ہر مسلم ملک میں وہ یہ کر رہے ہیں کہ حکمراں طبقہ کے خلاف مسلم عوام کو بھڑکاتے ہیں۔ بظاہر اسلام کے نام پر وہ یہ سنگین برائی کر رہے ہیں کہ وہ حکمراں اورعوام دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کر دیتے ہیں۔ اس خود ساختہ اسلامی سیاست نے ہر مسلم ملک کے بہترین امکانات کو برباد کر دیا ہے۔

۲۰ اپریل ۲۰۰۳

دہلی کے ایک مسلمان کبھی کبھی میرے پاس آتے ہیں۔ ان کے اندر وہی منفی سوچ ہے جو عام مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ وہ ڈگری والی تعلیم حاصل کئے ہوئے ہیں مگر ان کا مطالعہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ عام مسلمانوں کی طرح ان کی معلومات کا زیادہ تر ماخذ اردو اخبارات ہیں۔ ایک دن گفتگو کے دوران انہوں نے ایسی باتیں کہیں جو علمی اعتبار سے درست نہ تھیں۔ مثلاً ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ قدیم عہد نامہ (Old Testament) اور نیا عہد نامہ (New Testament) میں کیا فرق ہے۔ تیرہویں صدی میں جب تاتاری لشکر نے بغداد کو تباہ کیا تو اس کا سبب کیا تھا، وغیرہ۔ اس کم علمی کے باوجود وہ عراق اور امریکہ کے مسائل پر پورے اعتماد کے ساتھ بول رہے تھے۔ وہ صدام حسین کے صدفی صد حامی تھے اور جارج بش کے صدفی صد مخالف۔ میں نے کہا کہ آپ کی علمی استعداد اتنی کم ہے اس کے باوجود آپ عالمی سیاست پر اتنے اعتماد کے ساتھ تبصرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پر جوش طور پر کہا: ہم عالمی سیاست کو خوب جانتے ہیں۔

میرے تجربہ کے مطابق، یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ نہ صرف سیکولر علوم

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page