۲۵ اپریل ۲۰۰۳
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
عراق کی جنگ کے زمانہ میں مسلم دانشوروں نے بے شمار مضامین لکھے۔ ان مضامین کا خلاصہ یہ تھا کہ عراق میں ہونے والی ٹریجڈی کی ذمہ داری انہوں نے دو چیزوں پر ڈالی۔ مغربی قوموں کی سازش، اور مسلم حکمرانوں کی غیر جمہوری پالیسی ۔ جہاں تک مغربی قوموں کی سازش کا تعلق ہے، وہ پہلے ہی نظر میں قابلِ رد ہے۔ قرآن میں مختلف الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اہل اسلام کے لیے اغیار کی سازش کوئی مسئلہ نہیں کیوں کہ اللہ اس قسم کی سازشوں کے خلاف اہل اسلام کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ خدا نے اپنے وعدہ کے باوجود ان سازشوں کو ناکام نہیں بنایا۔ اس معاملہ میں دوسری توجیہہ مسلم حکمرانوں کا غیر جمہوری رویہ بتایا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمراں اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان مسلم حکمرانوں نے اپنے ملکوں میں بیشتر اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو صرف اس لیے قید یا ہلاک کر دیا کہ وہ اسلام پسند تھے اور انہوں نے مسلم حکمرانوں کی سیکولر پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس مخالفانہ پالیسی کا اثر یہ ہوا کہ مسلم ممالک سے ڈاکٹر ، انجینئر ، قانون داں ، سائنٹسٹ، مفکرین اور سوشل سائنٹسٹ کی ایک بڑی تعداد ہجرت کر کے امریکا اور یورپ، وغیرہ میں پناہ گزیں ہوگئی ۔ اس کا نتیجہ علمی، سائنسی اور ٹیکنالوجیکل افلاس تھا۔ اور ظاہر ہے کہ جو ملک اپنے اعلیٰ صلاحیت کے افراد کو کھودے وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی چیلنج کا جواب دے سکے۔
میں کہوں گا کہ یہ صحیح تصویر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل غلطی خود اسلام پسند لوگوں کی ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں سے نکل کر مغربی ملکوں میں جس طرح پر امن اور غیر سیاسی انداز میں رہ رہے ہیں، اگر وہ اسی طرح اپنے ملکوں میں رہتے تو ہرگز انہیں ترکِ وطن نہ کرنا پڑتا۔ اُن کے لیے صحیح یہ تھا کہ وہ حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے تعلیم اور اصلاح اور دعوت جیسے میدانوں میں پر امن کام کریں۔ وہ اُسی طرح سیاسی اعتبار سے بے ضرر بن کر تعمیری شعبوں میں اپنا حصہ ادا کریں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues