Al-Risala · July 2003 · page

۲۵ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

سے بڑی کمزوری ہے جس نے اُنہیں صحیح قیادت سے محروم کر رکھا ہے۔

عراق کی جنگ شروع ہونے کے بعد مسلم خطباء اور مقررین بڑے بڑے الفاظ بول رہے ہیں۔ اُن کو یقین ہے کہ اُن کے یہ الفاظ امریکا کے بم کے خلاف سپر بم ثابت ہوں گے اور امریکا اور اُس کے ساتھیوں کو شرمناک انجام سے دوچار کریں گے۔ کچھ لوگ فیاضی کے ساتھ اقبال کے وہ اشعار دہرا رہے ہیں جو مسلمانوں کی ناقابل تسخیر طاقت کا شاعرانہ اعلان ہیں۔ مثلاً: وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا دو نیم اُن کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ اُن کی ہیبت سے رائی پاکستان کے قاضی حسین احمد صاحب نے لاہور میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: اسلام کا مستقبل روشن ہے اور یہی پوری دنیا کے لیے ورلڈ آرڈر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکا پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن امت مسلمہ کے اندر پیدا ہونے والی بیداری کی لہر اس خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔ (نوائے وقت: ٢١ اپریل ٢٠٠٣ صفحہ ٢)

یہ اندازِ کلام بلاشبہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانہ میں ہر طرح کے ناموافق واقعات پیش آئے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اور اصحابِ رسول ایسے موقع پر مذکورہ قسم کے الفاظ بولیں۔ اس کے برعکس اُن کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی ایسا کوئی حادثہ گزرتا تو وہ داخلی احتساب کرتے۔ لفظی جوش دکھانے کے بجائے وہ اس فکر میں لگ جاتے کہ ہماری وہ کون سی داخلی کوتاہی تھی جس کی بنا پر ہمیں ایسی مصیبت سے دوچار ہونا پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی شاعری اور خطابت صرف اس بات کی علامت ہے کہ ملت زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر عملی قوتیں کم ہو جاتی ہیں۔ اُس وقت ایسے شعراء اور خطباء اُبھرتے ہیں جو بڑے بڑے الفاظ بول کر اُنہیں اس خوش فہمی میں مبتلا کریں کہ وہ اب بھی پہلے کی طرح زندہ حالت میں موجود ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page