Al-Risala · July 2003 · page

۲۸ اپریل ۲۰۰۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳

آگیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکا قدیم ٹیررسٹ ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں اُس کا ٹیررزم پڑوسی ملکوں کے خلاف تھا۔ مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکا نے اپنے ٹیررزم کو دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچادیا، وغیرہ۔

میرے نزدیک اس قسم کی باتیں بے سود ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امریکا دہشت گرد ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عراق نے اس حقیقت کو جانتے ہوئے اُس سے بچنے کی تدبیر کیوں نہ کی۔ صدام حسین کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ امریکا سے ٹکراؤ کو اعراض کریں مگر انہوں نے غیر ضروری جرأت دکھاتے ہوئے امریکا سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ وہی سیاست ہے جس کو عام زبان میں آبيل مجھے مار کہا جاتا ہے۔

دہشت گرد افراد ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے نپٹنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ اُن سے لڑائی چھیڑ دی جائے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اُن کے وار کو خالی کر دیا جائے اور وار کو خالی کرنے کی یہ پالیسی ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ اُس کی کامیابی کی ضامن صرف ایک چیز ہے اور وہ ہے دانشمندی۔ ۲۹ اپریل ۲۰۰۳ صدر صدام حسین کی پہلی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے اس سادہ حل کو استعمال نہیں کیا کہ پولیٹکل گدّی کو چھوڑ کر امریکا کے وار کو خالی کر دیں۔ اس کے بعد جب امریکا نے عراق پر بمباری شروع کردی تو وہ خود تو کسی بنکر میں داخل ہوگئے اور وہاں سے ایک پیغام بھیجا جو اُن کی طرف سے ٹی وی پر سنایا گیا۔ انہوں نے عراقیوں کو للکارا کہ تم لوگ امریکی فوجوں کی گردنیں کاٹ دو۔ اب جب کہ عراق کی جنگ ختم ہوگئی ہے، صدام کی طرف سے ایک خط سامنے آیا ہے۔ یہ خط عربی اخبار القدس میں چھپا ہے جس پر ۲۸ اپریل ۲۰۰۳ کی تاریخ درج ہے۔ اُس میں کہا گیا ہے کہ عراقیو اُٹھو اور امریکا اور برطانیہ کے قبضہ کو ختم کردو۔

یہ خط اگر بالفرض صحیح ہو تب بھی وہ ناقابل لحاظ ہے۔ اس لیے کہ وہ صرف ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے۔ صدر صدام حسین اگر زندہ ہیں تو وہ کیوں چھپے ہوئے ہیں۔ خود کسی محفوظ مقام پر روپوش رہنا اور

‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues

Printed page