War in Iraq is now over.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۳
عراقی عوام کو لڑنے کے لیے ابھارنا نہ قیادت ہے اور نہ بہادری۔ بہادر قائد وہ ہے جو اپنے عوام کے ساتھ لڑے، نہ کہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر دوسروں کو لڑائی کے میدان میں جھونک دے۔ امریکا کا مشہور طیارہ بردار جہاز (ایئر کرافٹ کیریر) ایس ایس ابراہمن لنکن سے واپس ہو کر امریکا پہنچا اور لاس اینجلس کے ساحل پر ٹھہرا۔ یہاں اُس کے اوپر ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں امریکا کے صدر جارج بُش نے اپنی تاریخی تقریر کی ۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ عراق کی جنگ اب ختم ہو چکی ہے:
War in Iraq is now over.
میں نے یہ تقریر بی بی سی ورلڈ نیوز پر سنی۔ بظاہر یہ تقریر عراق کے خلاف تھی۔ لیکن چونکہ دنیا کے تمام مسلمان اپنے آپ کو عراق کی اس جنگ سے جذباتی حد تک وابستہ کیے ہوئے تھے اس لیے جارج بُش کی تقریر کا رُخ گویا تمام دنیا کے مسلمانوں کی طرف تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ مسلمانوں کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جب کہ ایک شخص جس کو تمام دنیا کے مسلمان اپنا دشمن سمجھ رہے ہوں، وہ اُنہیں مغلوب کر کے اپنی فتح کا اعلان کرے اور ساری دنیا کے مسلمان بے بسی کے ساتھ اُس کو سننے پر مجبور ہوں۔ میں نے سوچا کہ آج شاید ساری دنیا میں میں اکیلا مسلمان ہوں جو اللہ کے فضل سے اس نفسیات سے خالی ہے۔ کیوں کہ میں نہ امریکا کو اسلام کا دشمن سمجھتا ہوں اور نہ مسلمانوں کو مظلوم اور مقہور گروہ۔ ۷ مئی ۲۰۰۳ آج تمام اخبارات میں ایک خبر چھپی ہے اُس کو بغیر تبصرہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ صدام حسین کے بیٹے قصی حسین نے عراق پر امریکی حملہ کے چند گھنٹہ پہلے عراق کے سنٹرل بینک سے تقریباً ایک بلین ڈالر نکلوا لیے تھے۔ اتنی بڑی رقم کو لے جانے کے لیے تین ٹریکٹر ٹریلر استعمال کیے گئے تھے۔ اس رقم کو نکالنے کے لیے خود صدام حسین نے اپنے دستخط کے ساتھ حکم دیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2003 All issues