A Short History of Switzerland.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۲۷
ہے بلکہ یہ تلافی کرنا ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجو د اُس میں وہ کون سا موافق جزء ہے جس کو اپنے حق میں استعمال کیا جاسکے۔ اِسی کا نام تدبر ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کا کوئی مسلم رہنما اس تدبر کا ثبوت نہ دے سکا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔
سوئزرلینڈ میں زیادہ قدرتی ذخائر نہیں۔ وہاں کی سب سے بڑی دولت سارے ملک میں پھیلی ہوئی جھیلیں ہیں۔ سوئزرلینڈ پہاڑوں کا ایک ملک ہے۔ یہاں عام طور پر ہلکی بارشیں ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے پہاڑوں کے اوپر برف جمتی رہتی ہے۔ یہ برف پگھل کر بہتی ہے تو اُس سے بڑی بڑی جھیلیں بنتی ہیں۔ سوئزرلینڈ کے لوگوں نے جھیل کی اس دولت کو بھر پور استعمال کیا ہے۔ انہوں نے جھیلوں کو سنوار کر انہیں تفریح گاہ کی حیثیت دے دی ہے۔ وہ اُن سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ اُن سے اپنے کھیتوں اور باغوں کی آبپاشی کرتے ہیں۔ اُن سے سستی بجلی پیدا کرتے ہیں، وغیرہ۔ ہندوستان میں اس قسم کی جھیلیں تو نہیں ہیں مگر یہاں کثرت سے ندیاں پائی جاتی ہیں۔ ان ندیوں کو استعمال کر کے اُن کو عظیم دولت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے ڈیم بنانے پر جو بے شمار دولت خرچ کی گئی وہ اگر دریاؤں کے صحیح استعمال پر خرچ کی جاتی تو آج ہندوستان میں پانی کا کوئی مسئلہ موجود نہ ہوتا۔
جہاں تک میں جانتا ہوں، اس مسئلہ میں پہلا قابل ذکر نام ایک انگریز کا ہے۔ یہ لیفٹیننٹ جنرل سر آرتھر کاٹن (Lt. Gen. Sir Arthur Cotton) ہے۔ برٹش حکومت کے زمانہ میں ۱۸۳۹ء میں اُس نے جنوبی ہند میں ایک نہایت اہم کام شروع کیا تھا مگر وہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اس انگریز نے اپنی اس اسکیم کا نام انٹر بیسن ٹرانسفر آف واٹر (Inter-Basin Transfer of Water) رکھا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ملک کے مختلف دریاؤں کو نہروں کے ذریعہ ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تاکہ ایک دریا کا پانی دوسری دریا تک پہنچنے لگے۔ تقریباً ہر سال ہندوستان میں یہ منظر سامنے آتا ہے کہ ملک کے ایک حصہ میں زیادہ بارش سے دریاؤں میں طوفان آجاتا ہے جس کا زبردست نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔ عین اُسی وقت ملک کے دوسرے حصوں میں بارش نہ ہونے یا کم ہونے کی وجہ سے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues