Al-Risala · August 2003 · page 26

A Short History of Switzerland.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۲۶

سوئزرلینڈ ایک غیر جانب دار ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ لینن وہاں ستمبر ۱۹۱۴ میں پہنچا۔ وہاں اس کے کچھ ساتھی بھی اکٹھا ہو گئے جو اس وقت بالشویک کہے جاتے تھے۔ جنگ کے نتیجہ میں ان کا رابطہ اپنے وطن روس سے اور دوسرے علاقوں سے منقطع ہو گیا۔ تا ہم انہوں نے ۱۹۱۵ اور ۱۹۱۶ میں دو اینٹی وار کانفرنسیں سوئزرلینڈ میں منعقد کیں۔ ان کانفرنسوں میں لینن کا نعرہ یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ وار کو سول وار میں بدل دو:

Transform the imperialist war into civil war. (10/794)

یہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا منفی طریقہ ہے۔ اکثر لیڈر ایسا کرتے ہیں کہ وہ بظاہر ایک مثبت مقصد کے لیے اٹھتے ہیں مگر اُس کے حصول کے لیے وہ منفی طریق کار اختیار کرتے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مثبت مقصد ہمیشہ مثبت طریقہ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ منفی طریقہ کبھی کسی کو مثبت انجام تک پہنچانے والا نہیں۔

تاریخ کی پہلی بین الالالاقوامی مجلس سوئزرلینڈ میں قائم ہوئی۔ یہ جمعیت اقوام (League of Nations) تھی جو جنگِ عظیم اول کے بعد ۱۹۲۰ میں قائم ہوئی۔ اس کا ہیڈ کوارٹر جنیوا میں تھا۔ اس کا مقصد بین اقوامی تعاون (international co-operation) بتایا گیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجہ میں یہ جمعیت ٹوٹ گئی۔ جنگ کے خاتمہ پر دوسری بین اقوامی مجلس اقوام متحدہ(United Nations) کے نام سے بنی۔ اس کا صدر دفتر نیو یارک میں ہے۔

لیگ آف نیشنز جب سوئزرلینڈ میں قائم ہوئی تو مسلم رہنماؤں نے اُس پر منفی تبصرے کیے۔ ۔ اس منفی تبصرہ کی ایک مثال اقبال کے اس فارسی شعر میں نظر آتی ہے:

چیست جمعیت اقوام کفن دزدے چند بہر تقسیم قبور انجمن ساخته اند یعنی جمعیت اقوام کیا ہے۔ کچھ کفن چوروں نے قبروں کی تقسیم کے لیے ایک انجمن بنا لی ہے۔ یہ تبصرہ بلاشبہ نادانی کا تبصرہ ہے۔ مختلف مفادات کی اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جو اجتماعی ادارہ بنایا جائے وہ ہر ایک کی پسند کے مطابق نہ ہو۔ ایسی حالت میں اصل کام اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page