Al-Risala · August 2003 · page 30

Link rivers in 10 years: SC

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۰

مشہور ہے۔ اُس نے اپنی آٹو بایا گرافی میں اپنے بارے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک بڑا گنہگار (great sinner) تھا۔ اُس نے مادی مصلحت کے تحت کیتھولک مذہب کو چھوڑ کر پروٹسٹنٹ مذہب اختیار کر لیا اور پھر وہ دوبارہ کیتھولک بن گیا۔

روسو نے اپنی آٹو بایا گرافی میں لکھا ہے کہ ایک گھر جس میں وہ ۱۷۳۰ میں رہتا تھا، وہ ایک بشپ کی دعا کی وجہ سے معجزاتی طور پر آگ میں جل جانے سے بچ گیا:

A house in which he was living in 1730 had been miraculously saved from a fire by a bishop's prayers. (HWP/661)

اس قسم کا واقعہ ہمیشہ کسی نہ کسی معلوم یا غیر معلوم مادی سبب کے تحت ہوتا ہے۔ مگر معتقدین اِس کو اپنے بزرگ کی کرامت کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی غلط انتساب (attribute) ہے جو تمام کراماتی قصوں کا اصل ماخذ ہے۔

مشہور جرمن مفکر فریڈرش نشے (وفات ۱۹۰۰) کا آخری زمانہ زیادہ تر سوئزرلینڈ میں گذرا۔ اُس کی صحت اکثر خراب رہتی تھی۔ وہ ۱۸۸۸ میں دیوانہ (insane) ہو گیا۔ اور اسی دیوانگی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی۔ (HWP/728)

میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ کئی بڑے اسکالر اس قسم کے افسوس ناک انجام سے دوچار ہوئے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اکثر ایک شدید قسم کے ذہنی تضاد میں مبتلا رہتے ہیں۔ تفگیری سطح پر وہ کسی یقینی صداقت کو دریافت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی عالمانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے انسان کی حیثیت سے پیش کریں جس نے حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کیا فکری سطح پر یہی داخلی تضاد غالباً اُن کو آخر کار دیوانہ بنا دیتا ہے۔ کسی عالی دماغ انسان کے لیے بلاشبہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ وہ ایک ایسی سچائی کو دریافت کرے جس پر وہ پورے یقین کے ساتھ جی سکتا ہو۔ مذکورہ حادثہ اکثر اُن ذہین لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جن کی فکری جڑیں الہامی صداقت پر مبنی نہ ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page