Link rivers in 10 years: SC
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۳۱
ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی ایک سفر کے دوران دسمبر ١٩٣١ میں سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا آئے تھے۔ یہاں انہوں نے وکٹری ہال میں ایک تقریر کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ سچائی خدا ہے : Truth is God فرانسیسی مصنف رومین رولاں (Romain Rolland) نے سچائی کے اس تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ سچائی خدا ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں خدا کی ایک اہم صفت کا ذکر موجود نہیں، اور وہ سرور ہے:
If it is correct, that “Truth is God”, it appears to me that it lacks one important attribute of God: Joy. (LMG: 293)
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا کہ سچائی خدا ہے ، یہ خدا کے وجود کی نفی ہے۔ خدا ایک باشعور وجود ہے۔ اگر وہ باشعور وجود نہ ہو تو وہ خدا بھی نہیں۔ سچائی ایک مجرد صفت ہے، وہ کوئی زندہ وجود نہیں۔ اس لیے خدا کے اعتراف کی یہ کوئی صحیح تعبیر نہیں کہ خدا سچائی ہے یا سچائی خدا ہے۔ سولہویں صدی کے یورپ میں چرچ کا غلبہ تھا۔ بہت سے لوگ چرچ کے حکم پر صرف اس لیے ہلاک کر دیے گئے کہ وہ چرچ کے مسلمہ عقائد پر کلام کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک میخائل سروٹس (Michael Servetus) ہے۔ اُس کو ۱۵۵۳ میں اسپینیوں کی ایک مذہبی عدالت نے پھانسی کا حکم دے دیا۔ اُس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ یہ کہتا تھا کہ تثلیث کا عقیدہ (trinity) بائبل میں موجود نہیں۔ اُس کو جب مذہبی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو وہ بھاگ کر سوئزرلینڈ آگیا۔ اس لیے کہ مذہبی عدالتیں کیتھولک چرچ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور سوئزر لینڈ اُس زمانہ میں کالون (Calvin) کے اثر سے پروٹسٹنٹ ملک بنا ہوا تھا۔ (HD/322)
تثلیث کا عقیدہ مسیحی مذہب میں بنیادی اور مرکزی عقیدہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تثلیث کی کوئی اصل بائبل میں موجود نہیں۔ ایک بار میں نے ایک یورپین پادری سے پوچھا کہ تثلیث کا عقیدہ بائبل میں کہاں ہے۔ وہ تقریباً ایک گھنٹہ تک بائبل کا انگریزی ترجمہ اُلٹتے پلٹتے رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues