Don't preach, just teach.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳
کرپٹ سیاستداں آخری حد تک تباہ کر چکے ہیں، اُس کو یہاں کے تجارتی طبقہ نے بچایا ہے۔ ہندوستان میں سینکڑوں سال سے تجارت کی روایات قائم تھیں۔ آزادی سے پہلے یہاں ایک طبقہ موجود تھا جو ملک کے اندر مضبوط تجارتی بنیاد قائم کر چکا تھا۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ملک کو اقتصادی تباہی سے بچارکھا ہے۔ ورنہ جہاں تک سیاسی لیڈروں کا تعلق ہے، اؔنہوں نے پہلے سوشلزم کے نام پر ملک کو تباہ کیا تھا اور اس کے بعد لیڈروں کے ناقابل بیان کرپشن نے ملک کو بالکل کھوکھلا بنا دیا۔
کانفرنس کے منتظمین نے واپسی کے سفر کے لیے مجھے جو گاڑی دی تھی، اُس کا ڈرائیور ایک نوجوان تھا۔ اُس کا نام راکیش شرما تھا۔ وہ گاڑی کو تیز دوڑانے لگا۔ میرے ساتھی نے اُس کو منع کیا مگر وہ بدستور تیز دوڑاتا رہا۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ وہ بار بار اوور ٹیک کرتا تھا۔ میرے ساتھی نے کسی قدر سختی کے ساتھ کہا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ سڑک کے دونوں طرف کئی گاڑیاں الٹی پڑی ہیں۔ کیا تم ہمارا انجام بھی یہی کرنا چاہتے ہو۔
اس کے بعد ڈرائیور نے گاڑی کھڑی کر دی اور باہر نکل کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس نے کہا کہ میں ایک پروفیشنل ڈرائیور ہوں۔ میں تو اسی طرح گاڑی چلاؤں گا۔ میرے ساتھی نے محسوس کیا کہ اگر ہم اس ڈرائیور سے ضد کرتے ہیں تو ہمارا سفر مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے اُنہوں نے ڈرائیور کو منانے کی پالیسی اختیار کی اور پھر ہمارا سفر آگے کے لیے جاری ہو گیا۔ یہ واقعہ غازی آباد سے کچھ پہلے پیش آیا۔
اس تجربہ کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ سڑکوں پر جو حادثے ہوتے ہیں، اُن کا سبب زیادہ تر اپنے بارے میں بڑھا ہوا اعتماد ہوتا ہے۔ جن لوگوں میں کسی قسم کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے وہ عام طور پر اس نفسیاتی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے آس پاس اس کا برا انجام دیکھتے ہیں مگر اُن کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ۔ یہ دوسروں کا معاملہ تھا، میرے ساتھ ایسا ہونے والا نہیں۔
خدا کسی انسان کو زیادہ صلاحیت دیتا ہے تا کہ وہ زیادہ کام کرے۔ مگر وہ اپنی برخود غلط نفسیات کی بنا پر اکثر اپنے آپ کو تباہ کر لیتا ہے۔ اپنے کو زیادہ سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایسا کام کر ڈالتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues