Al-Risala · January 2003 · page

Don't preach, just teach.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

چہرہ اور بال پر مٹی لگالی۔ اس طرح اپنی صورت کو بگاڑ کر جب وہ فلم ڈائریکٹر کے سامنے آیا تو ڈائریکٹر نے کہا کہ اب تم بالکل ٹھیک ہو۔ اس کے بعد اُس نے اسی طرح پوری شوٹنگ کرائی۔ میں نے کہا کہ جو آدمی اپنی ترقی چاہتا ہو اُس کو نہایت بے رحمی کے ساتھ اپنی تنقید آپ کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک شخص نے نجی گفتگو کے دوران بتایا کہ میرا تجربہ ہے کہ ہندوؤں کو عیسائیت، جین ازم، سکھ ازم، بودھ ازم اور دوسرے مذہبوں سے کوئی نفرت نہیں۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ اسلام کے خلاف اکثر ہندوؤں میں نفرت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آخر اس مسئلہ کا کیا حل ہے۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ مسلمان ردعمل کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ یک طرفہ طور پر ہندوؤں سے محبت کرنے لگیں۔ دشمنی کا جواب دشمنی نہیں ہے۔ بلکہ دشمنی کا جواب محبت ہے۔ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تجربہ کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی دشمنی کوئی فطری چیز نہیں۔ وہ ہمیشہ اوپری اسباب کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی پتھر کے اوپر کچھ مٹی جم جائے۔ جیسے ہی آپ اُس کے اوپر پانی ڈالیں گے وہ بہہ کر ختم ہو جائے گی۔ ایسا ہی معاملہ اس قسم کی نفرت کا ہے۔ آپ محبت کے سیلاب سے دھو کر اس کو کسی بھی وقت صاف کرسکتے ہیں۔

۴ جون ۲۰۰۲ء کی صبح کورشی کیش سے واپسی تھی۔ سوامی چیدانند سے آخری ملاقات کر کے روانہ ہوا۔ ہماری گاڑی چلتے ہوئے میرٹھ کے قریب پہنچی تو سڑک کے دونوں طرف سرسبز مناظر تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مودی پورم ہے۔ تقریباً ۲۵ کلومیٹر کے رقبہ میں ایک ہری بھری دنیا بنائی جارہی ہے۔ اس میں انتہائی جدید قسم کی سہولتیں موجود ہوں گی۔ یہاں تک کہ اس میں فلم بندی کے انتظامات بھی ہوں گے۔ یہ نئی دنیا اُن دولت مندوں کے لیے بنائی جارہی ہے جو شہر کے مسائل سے بیزار ہیں اور فطرت کی کھلی فضا میں رہنا چاہتے ہیں۔ مودی پورم کو مودی نگر والوں نے بنایا ہے۔ مودی نگر (مودی انڈسٹریز) کو یہاں ۱۹۳۲ میں قائم کیا گیا تھا۔

مودی پورم کے مختلف منفی اور مثبت پہلو ہیں۔ اِس کا ایک پہلو یہ ہے کہ موجودہ ہندوستان جس کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page