Politics is the art of the possible.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۵
لیے ہماری جنت تو یقینی ہے۔ پھر ہمیں اس کی فکر کی کیا ضرورت:
Jesus Christ has taken all our sin. So Paradise is assured for all of us. Why should we worry about it. سوئزرلینڈ کی اس کانفرنس کے موقع پر دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ تقریباً چار سو کی تعداد میں اکٹھا ہوئے تھے۔ راقم الحروف کی انگریزی کتابیں اُن میں سے اکثر افراد تک پہنچائی گئیں۔ میرا ایک انگریزی پمفلٹ مینی فیسٹو آف پیس (Manifesto of Peace) کے نام سے ہے۔ اس کی فوٹو کاپیاں کانفرنس کے ذمہ داروں کی طرف سے تیار کرائی گئیں اور اُن کو بڑی تعداد میں لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ کانفرنس کے ذمہ داروں کی طرف سے بڑے سائز کی ایک نہایت خوبصورت اور مجلّد کتاب آرٹ پیپر پر چھپوائی گئی تھی۔ یہ کتاب ۲۵۶ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کتاب میں امن سے متعلق میری تین تقریریں شامل کی گئی تھیں۔
۱۵ اکتوبر ۳ بجے شام کو، ہم لوگ زگ میں واقع نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم کے آفس میں لے جائے گئے۔ وہاں مختلف چیزیں دیکھیں ۔ ایک دلچسپ چیز یہ تھی کہ مسٹر آندرے بیکوف نے ایک ویڈیو ٹیپ دکھایا جو اُن کے چھوٹے کمپیوٹر پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یروشلم کے ایک قدیم چرچ میں ہر سال اُس کی چھت کی طرف سے ایک تیز روشنی آتی ہے۔ یہ روشنی چند منٹ تک باقی رہتی ہے۔ یہ واقعہ ہر سال ایسٹر کے موقع پر پیش آتا ہے۔ آندرے بیکوف اس روشنی کو دیکھنے کے لیے یروشلم گئے۔ وہاں انہوں نے اس معاملہ کا پورا ویڈیو تیار کیا۔ اس کو انہوں نے کمپیوٹر کھول کر ہمیں دکھایا۔ یہ پورا ویڈیو چھ منٹ کا تھا۔ اس میں روشنی ایک آبشار کی مانند ظاہر ہوئی۔ اُس نے کسی کو جلایا نہیں اور پھر کچھ دیر کے بعد اپنے آپ ختم ہوگئی۔ سفر سے واپسی کے بعد سوئزر لینڈ سے مختلف تاثراتی خطوط موصول ہوئے۔ اُن میں سے ایک مزعند لیب حیات کا تھا۔ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک ہندوستان ٹائمز کے نمائندہ مسٹر خالد انصاری تھے۔ انہوں نے ہماری کچھ انگریزی کتابیں سوئزر لینڈ میں مزعند لیب حیات کو دی تھیں۔ واپسی کے بعد اُن کی طرف سے مسٹر خالد انصاری کو ای میل مورخہ ۳۰ اکتوبر ۲۰۰۲ اور ۲ نومبر ۲۰۰۲ ملا۔ اس خط میں انہوں نے مذکورہ لٹریچر کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا:
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues