Politics is the art of the possible.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۴
براہ راست ملاقات کرتا۔ وہ کسی قدر دشواری کے ساتھ انگریزی بول رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ عربی میں بولیے۔ وہ اس کو سن کر خوش ہوگئے اور پھر بقیہ گفتگو عربی زبان میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک کتاب عربی زبان میں شائع کی ہے جس پر الازہر کے علماء غصہ ہیں۔ اس میں محمد ابن اسحاق (وفات ۱۵۱ھ) پر تنقید کی گئی ہے۔ تنقید کا ایک جزء یہ ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ مکی دور میں رسول اللہ ﷺ مشرکین کی حمایت میں رہے۔ حتیٰ کہ ابو طالب کی وفات کے بعد وہ نئے حامی کی تلاش میں طائف گئے۔ پروفیسر مراد کے نزدیک یہ بات بہت زیادہ غلط ہے۔ ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ خدا کی اور مسلم مجاہدین کی حمایت میں تھے، نہ کہ کسی کافر یا مشرک کی حمایت میں۔ یہ نقطہ نظر میرے نزدیک غیر تاریخی بھی ہے اور غیر تاریخی بھی ہے اور غیر قرآنی بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ قبائلی نظام کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں کوئی شخص قبائل کی حمایت ہی میں محفوظ رہ سکتا تھا چنانچہ دوسرے پیغمبروں کی طرح خود پیغمبر اسلام بھی دورِ فتح سے پہلے قبیلہ کی حمایت (منعت) میں رہے ۔ یہ بات حدیث سے صراحتہ ثابت ہے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد الجزء ۲ صفحہ ۵۳۳ )۔
اگر قرآنی اعتبار سے اس معاملہ کو دیکھیں تو قرآن بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عام انسانوں کے لیے ایک نمونہ (اسوہ) تھے۔ کوئی شخص نمونہ اسی وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ فوق الانسان نہ ہو بلکہ وہ عام انسانوں ہی کی مانند ہو۔ ورنہ وہ عام انسانوں کے لیے نمونہ (اسوہ) نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے انسان کے لیے نمونہ نہیں ہیں بلکہ پیغمبر انسان کے لیے نمونہ ہیں۔ اس بنا پر قرآن میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ پیغمبر تمہاری طرح ایک بشر ہے (ما انا الا بشر مثلکم) سوئزرلینڈ کے ایک مسیحی نوجوان جو پروڈکشن انجینئر کے طالب علم ہیں، ان کی عمر ۲۴ سال ہے۔ وہ ہابی کے طور پر فوٹوگرافی کرتے ہیں۔ پریا ملک نے بتایا کہ انہوں نے ان سے ایک سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی مذہب میں موت کے بعد دوسری دنیا کا تصور موجود ہے، پھر کیا آپ اس کے بارے میں نہیں سوچتے کہ موت کے بعد آپ کے ساتھ کیا پیش آئے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس معاملہ میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔ یسوع مسیح نے ہمارے گناہوں کو اپنے اوپر لے لیا ہے اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues