Al-Risala · August 2003 · page 47

Dear Khalid

الرسالہ، اگست ۲۰۰۳، صفحہ ۴۷

۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ کو سویزر لینڈ سے دہلی کے لیے واپسی تھی۔ صبح ۱۰ بجے ہوٹل کو الوداع کہہ کر ژگ سے زیورک کے لیے بذریعہ کار روانہ ہوا۔ حسب معمول پورا سفر ہموار سڑک اور دوطرفہ سبزہ کے درمیان طے ہوا۔ تقریبا ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد ہم زیورک کے ایرپورٹ پر پہنچے۔ ضروری کارروائی کے بعد ہم سوئس ایر کی فلائٹ نمبر ۲۷۲ میں داخل ہوئے۔ زیورک سے اس جہاز کی روانگی کا وقت ۱۲ بجے تھا۔ واپسی کا یہ سفر زیادہ ہموار نہ تھا۔ درمیان میں جہاز تیزی سے ہلنے لگا اور نیچے اوپر ہونے لگا۔ جہاز میں یہ معاملہ ہواؤں کے فرق سے پیدا ہوتا ہے۔ سفر خواہ بحری جہاز سے ہو یا ہوائی جہاز سے، دونوں حالتوں میں سفر کا ہموار یا غیر ہموار ہونا تمام تر ہواؤں پر منحصر ہوتا ہے اور ہواؤں پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ حتیٰ کہ وہ پوری طرح قابل پیشین گوئی بھی نہیں۔ راستہ میں مشہور انگریزی اخبار ہیرالڈ انٹرنیشنل ٹریبیون (Herald International Tribune) کا شمارہ ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ دیکھا۔ یہ انگریزی اخبار کئی ملکوں سمیت سویزر لینڈ سے بھی چھپتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر ایک خبر تھی جس کا عنوان یہ تھا: Al Qaeda shifting to small-scale operations. واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپی ہوئی اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ حال میں مغربی لوگوں کے خلاف کی ہوئی خودکش بمباری سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کے کارکن اپنے کمزور شدہ قائدین کی ہدایت پر دہشت گردی کی ایک نئی مہم شروع کر رہے ہیں۔ وہ نسبتاً چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کر رہے ہیں اور اقتصادیات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب القاعدہ غیر مسلح لوگوں پر حملہ کو اپنا نشانہ بنا رہی ہے: Al-Qaeda is resorting to more indiscriminate attacks against "soft" targets. جہاز میں نئی دہلی کا انگریزی روز نامہ ٹائمز آف انڈیا (۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲) بھی مطالعہ کے لیے موجود تھا۔ اُس کے ادارتی صفحہ پر حسب معمول ایک قول درج تھا۔ یہ قول ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا تھا۔ اُس میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مغربی ممالک اپنے خلاف دہشت گردی کو زیادہ جانتے ہیں۔ اور ہمارے یہاں کی دہشت گردی کو وہ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے:

‹ Previous page Next page › Contents of August 2003 All issues

Printed page